افغانستان کے شمالی شہر مزار شریف کی زیرِ زمین بختر مارکیٹ میں جمعہ کو لگنے والی آگ نے برسوں کی محنت راکھ کر دی ہے۔ دکانداروں کے نمائندے کے مطابق آگ سے مجموعی نقصان لاکھوں ڈالر میں ہے، تاہم نقصان کا کوئی آزادانہ تخمینہ دستیاب نہیں اور آگ لگنے کی وجہ بھی تاحال واضح نہیں ہو سکی۔
مارکیٹ کی 136 دکانوں میں سے 10 چلانے والے تاجر سمیع نے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں نیا مال منگوایا تھا جو سب جل گیا۔ "جمعہ کو دوپہر ایک بجے نماز کے دوران فون آیا کہ مارکیٹ میں آگ لگی ہے۔ جب ہم پہنچے تو دھوئیں اور شعلوں کی وجہ سے اندر نہیں جا سکے۔ سب کچھ ختم ہو گیا، بس ہماری جانیں بچ گئیں،" وہ کہتے ہیں۔
ایک اور تاجر اسحاق کے مطابق انفرادی دکانداروں کا نقصان 50 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ ڈالر تک ہے، کیونکہ کسی کی چار، کسی کی پانچ اور کسی کی دس دکانیں تھیں۔
آگ نے مارکیٹ میں قائم ایک ٹریول ایجنسی کو بھی نہیں بخشا۔ اس کے مالک بریالی احمدی کے مطابق ان کے 36 گاہکوں کے پاسپورٹ جل گئے جو ایران اور سعودی عرب کے ویزوں کے لیے جمع کرائے گئے تھے۔ "ان کے ویزے تیار تھے اور انہیں اتوار کو سفر کرنا تھا، مگر وہ نہیں جا سکے،" انہوں نے بتایا۔ احمدی کا کہنا ہے کہ کاروبار میں لگائے گئے ان کے 10 لاکھ افغانی بھی آگ کی نذر ہو گئے۔
