وسطی افغانستان کے صوبہ غزنی میں نمک صاف کرنے والی ایک فیکٹری کی پیداوار 90 فیصد تک گر گئی ہے۔ فیکٹری کے منتظمین کے مطابق جہاں پہلے روزانہ 200 سے 300 بوریاں نمک تیار ہوتا تھا، وہاں اب صرف 20 سے 30 بوریاں بن رہی ہیں۔
فیکٹری کے منیجر بشیر احمد نے بتایا کہ اب مزدوروں کو تین چار دن میں صرف ایک بار کام پر بلایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’ہم روزانہ 20 سے 25 بوریاں تیار کرتے ہیں، زیادہ سے زیادہ 30، ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔‘
صوبے کی دیگر صنعتیں بھی دباؤ میں ہیں۔ منرل واٹر کی ایک فیکٹری کے منیجر سیار احمد کے مطابق گزشتہ برسوں میں وہاں 20 سے 25 مزدور کام کرتے تھے، جبکہ اس سال یہ تعداد چھ سے آٹھ رہ گئی ہے۔
صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ پیداوار کے مسائل کے ساتھ ساتھ منڈیوں تک محدود رسائی کی وجہ سے مقامی مصنوعات بیچنا مشکل ہو گیا ہے۔ ایک پینٹ فیکٹری کے منیجر حمیداللہ منیب نے حکام سے درآمدی مصنوعات پر محصولات بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مصنوعات بین الاقوامی معیار پر پوری اترتی ہیں۔
قالین کے کاروبار سے وابستہ حسین داد رضائی نے بتایا کہ مقامی کاریگر بھیڑ کی اون سے ہاتھ کے بنے قالین تیار کرتے ہیں مگر خریدار نہیں ملتے۔ صنعت کاروں نے حکام سے بجلی کے مسائل حل کرنے، صنعتی زون فراہم کرنے اور افغان مصنوعات کے لیے منڈیاں تلاش کرنے میں مدد کا مطالبہ کیا ہے۔
