مواد پر جائیں

کابل میں حامد کرزئی سے ملاقات کے لیے آنے والوں کو روک دیا گیا، رپورٹس

کابل سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق طالبان اہلکاروں نے سابق صدر حامد کرزئی کی رہائش گاہ پر آنے والے قبائلی عمائدین اور دیگر افراد کو ملاقات سے روک دیا۔ حکام نے واقعے کی وجہ پر فوری وضاحت جاری نہیں کی۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

کابل سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق طالبان اہلکار بدھ کو افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کی رہائش گاہ میں داخل ہوئے اور وہاں موجود قبائلی عمائدین اور دیگر افراد کو ان سے ملاقات سے روک دیا۔ واقعے کی وجہ کے بارے میں حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی عوامی وضاحت سامنے نہیں آئی۔

افغانستان انٹرنیشنل نے کابل میں اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مسلح اہلکاروں نے رہائش گاہ پر موجود افراد کو ملاقات کی اجازت نہیں دی اور احتجاج کرنے والے بعض لوگوں کو منتشر کیا۔ اٹلس پریس کی ایک الگ رپورٹ میں بھی کہا گیا کہ قبائلی عمائدین اور دیگر آنے والوں کو سابق صدر سے ملنے سے روکا گیا۔

دونوں رپورٹس کا بنیادی نکتہ ایک ہے، تاہم واقعے کی کئی اہم تفصیلات ابھی واضح نہیں۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اہلکار کس کے حکم پر وہاں گئے، کارروائی کسی مخصوص ملاقات کو روکنے کے لیے تھی یا حامد کرزئی کی سرگرمیوں پر کسی وسیع تر پابندی کا حصہ تھی۔

دستیاب رپورٹس میں حامد کرزئی کو حراست میں لیے جانے کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق اس کے ذرائع نے بھی گرفتاری کی کسی کوشش کا ذکر نہیں کیا۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع بھی سامنے نہیں آئی۔

طالبان حکام اور حامد کرزئی کے دفتر کی جانب سے واقعے کی وجہ پر کوئی عوامی بیان سامنے نہ آنے کے باعث کارروائی کے محرک سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ افغانستان انٹرنیشنل کے ایک ذریعے نے اسے حامد کرزئی کے حالیہ بیانات سے جوڑا، تاہم اس دعوے کی الگ سے تصدیق نہیں ہوئی۔

حامد کرزئی 2004 سے 2014 تک افغانستان کے صدر رہے اور اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد بھی کابل میں مقیم رہے۔ وہ قومی مکالمے اور لڑکیوں کی تعلیم سمیت مختلف قومی معاملات پر وقتاً فوقتاً بیانات دیتے رہے ہیں۔

حالیہ برسوں میں ان کے بعض سفروں اور ملاقاتوں پر پابندیوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ اس لیے ان کی رہائش گاہ پر آنے والوں کو روکنے کا تازہ واقعہ سیاسی اہمیت رکھتا ہے، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا ان پر باضابطہ طور پر کوئی نئی پابندی عائد کی گئی ہے۔

حامد کرزئی افغانستان کے ان نمایاں سابق سیاسی رہنماؤں میں شامل ہیں جو اب بھی ملک کے اندر موجود ہیں۔ وہ طالبان حکومت میں کسی سرکاری عہدے پر نہیں، لیکن افغان سیاسی اور سماجی شخصیات سے ان کی ملاقاتیں توجہ کا مرکز رہتی ہیں۔

فی الحال دستیاب معلومات سے صرف اتنا واضح ہوتا ہے کہ کابل میں ان سے ملاقات کے لیے آنے والے افراد کو روکا گیا اور وہاں موجود لوگوں کو منتشر کیا گیا۔ کارروائی کی اصل وجہ، حکم دینے والے ادارے یا عہدیدار اور ممکنہ نئی پابندیوں کی نوعیت ابھی غیر واضح ہے۔

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/news-karzai-home-visitors-blocked-kabul-2026-09-23?lang=ur