تربت کے جوسک علاقے سے ایک ہی مدت کے دوران دو متضاد سکیورٹی بیانیے سامنے آئے ہیں۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی نئی خواتین مسلح یونٹ نے سی پیک شاہراہ پر پاکستانی فوجی قافلے کو نشانہ بنایا اور اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچایا۔ گروپ نے اسے اپنی نئی یونٹ کی پہلی مسلح کارروائی قرار دیا، تاہم اس دعوے میں بتائے گئے جانی نقصان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب پاکستان کے سرکاری ریڈیو نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جوسک کے علاقے میں انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کے دوران دو مبینہ عسکریت پسند مارے گئے اور کلیئرنس آپریشن جاری تھا۔ دستیاب معلومات سے یہ واضح نہیں کہ دونوں بیانات ایک ہی جھڑپ کی الگ تشریحات ہیں یا الگ الگ واقعات۔ کسی بھی فریق کے جانی نقصان کے دعوے کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھا جا رہا۔
خبر
تربت کے جوسک میں بی ایل ایف کا قافلے پر حملے کا دعویٰ، سکیورٹی ذرائع نے دو مبینہ عسکریت پسند مارے جانے کی خبر دی
بی ایل ایف نے جوسک کے قریب فوجی قافلے پر حملے اور اہلکاروں کے نقصان کا دعویٰ کیا، جبکہ پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے اسی علاقے میں انٹیلی جنس آپریشن کے دوران دو مبینہ عسکریت پسند مارے جانے کی اطلاع دی۔ دونوں بیانات کی آزادانہ تصدیق محدود ہے۔
Margalla Newsپاکستان
تربت کے جوسک میں بی ایل ایف کا قافلے پر حملے کا دعویٰ، سکیورٹی ذرائع نے دو مبینہ عسکریت پسند مارے جانے کی خبر دی
پاکستان • افغانستان • خطہ
سیکشن اور موضوعات
ادارتی شفافیت
خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/news-turbat-jusak-blf-claim-security-operation-counter-account-2026-09-23?lang=ur
ماخذ: https://www.radio.gov.pk/23-09-2026/security-forces-kill-two-terrorists-in-turbat
