این ویڈیا کی حمایت یافتہ امریکی اسٹارٹ اپ ریفلیکشن اے آئی نے 5 اکتوبر کو بیم نامی اپنا پہلا اوپن ویٹ مصنوعی ذہانت ماڈل متعارف کرایا۔ کمپنی کے مطابق بیم ایک اسپارس مکسچر آف ایکسپرٹس ماڈل ہے جس میں مجموعی طور پر 501 ارب پیرامیٹرز ہیں، جبکہ ایک وقت میں تقریباً 23 ارب پیرامیٹرز فعال ہوتے ہیں۔
ریفلیکشن کے سرکاری بلاگ کے مطابق ماڈل کو کوڈنگ، استدلال اور خودکار ایجنٹوں کے کاموں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ اسے 23.8 ٹریلین ٹوکنز پر ابتدائی تربیت دی گئی اور بعد میں تقویتی تربیت کے مرحلے میں بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ استعمال کی گئی۔
رائٹرز کے مطابق ریفلیکشن بیم کو کم لاگت والے چینی اوپن ماڈلز کے مقابل امریکی متبادل کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ماڈل بعض آزمائشوں میں زیڈ اے آئی کے جی ایل ایم 5.2 کے قریب اور علی بابا کے کیو وین 3.8 میکس کی کارکردگی کے قریب پہنچتا ہے۔ یہ موازنہ کمپنی کے اپنے نتائج پر مبنی ہے۔
ریفلیکشن نے کہا ہے کہ تقویتی تربیت کے ایک بڑے مرحلے میں چار ہفتوں کے دوران 10,500 این ویڈیا جی بی 300 پروسیسرز استعمال ہوئے اور 100 ملین سے زیادہ آزمائشی مراحل مکمل کیے گئے۔ بیم ابھی آخری حفاظتی جانچ اور کارکردگی کے جائزوں سے گزر رہا ہے، جبکہ ماڈل کے وزن بعد میں اکتوبر میں جاری کرنے کا منصوبہ ہے۔
