کراچی — تحریک طالبان پاکستان سے منسوب ایک نئی ویڈیو میں سندھی زبان بولنے والے ایک شخص کا پیغام سامنے آیا ہے، جس کے بعد سندھ میں تنظیم کی ممکنہ موجودگی اور مقامی سطح پر روابط سے متعلق سوالات دوبارہ نمایاں ہوئے ہیں۔
مارگلہ نیوز ویڈیو میں موجود شخص کی شناخت، اس کے سندھ سے تعلق، ویڈیو کے مقام یا اس کی تنظیمی حیثیت کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ اسی لیے ویڈیو کو ٹی ٹی پی سے منسوب مواد کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے، نہ کہ اس بات کے حتمی ثبوت کے طور پر کہ سندھ میں تنظیم کا نیا نیٹ ورک قائم ہو چکا ہے۔
سندھ میں ٹی ٹی پی سے منسلک سرگرمی کے کچھ الگ شواہد حالیہ مہینوں میں سامنے آ چکے ہیں۔ 27 جون کو کراچی کے گلستانِ جوہر میں سندھ رینجرز کی ایک تنصیب پر بم اور فائرنگ کے حملے میں تین رینجرز اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے تھے۔ رائٹرز کے مطابق حملے کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کی، جسے ٹی ٹی پی کا ایک دھڑا بتایا جاتا ہے۔
ستمبر کے آغاز میں سندھ کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی نے کراچی میں دو مبینہ ٹی ٹی پی ارکان کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ان پر رینجرز اور پولیس سے متعلق مقامات اور اہلکاروں کی نگرانی کرنے اور معلومات اپنے کمانڈر تک پہنچانے کا الزام تھا۔ یہ پولیس کا دعویٰ ہے اور مقدمات کے حتمی نتائج سامنے نہیں آئے۔
13 ستمبر کو رینجرز اور سی ٹی ڈی نے کراچی کے شیر شاہ علاقے میں ایک ایسے شخص کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا جسے انہوں نے ٹی ٹی پی سے وابستہ قرار دیا تھا۔
اس کے علاوہ 21 ستمبر کو ٹی ٹی پی کے ایک سینئر رکن مفتی غفران نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ تنظیم کی سرگرمیاں خیبر پختونخوا کے علاوہ پنجاب، سندھ، کراچی اور بلوچستان تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
ان واقعات اور دعوؤں سے سندھ میں ٹی ٹی پی کی ممکنہ موجودگی یا رابطوں کی جانچ کی اہمیت بڑھتی ہے، لیکن صرف سندھی زبان میں پیغام یا چند الگ واقعات کی بنیاد پر منظم اور وسیع نیٹ ورک کے پھیلاؤ کو ثابت شدہ حقیقت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
