مواد پر جائیں
رائے

میں طالبان اور بلوچ جنگجوؤں کو فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کیوں نہیں کہتا؟

احمد حسین طوری کی ذاتی رائے پر مبنی مضمون، جس میں ریاستی پالیسیوں، بلوچ و پشتون محرومیوں، شورش اور مسلح مزاحمت سے متعلق ان کا نقطۂ نظر پیش کیا گیا ہے۔

شائع شدہ

4 منٹ مطالعہ

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے۔ اس میں بیان کردہ سیاسی، تاریخی اور سکیورٹی دعوے اور تعبیرات مصنف سے منسوب ہیں اور Margalla News کے ادارتی موقف کی نمائندگی نہیں کرتیں۔

میں طالبان اور بلوچ جنگجوؤں کو فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کیوں نہیں کہتا؟

میں پاکستان کا ایک وفادار شہری ہوں۔ میں اس ملک میں رہ رہا ہوں۔ اسی ملک نے مجھے پاسپورٹ دیا ہے، شناخت دی ہے۔ قانوناً اور اخلاقاً ملک کے ساتھ غداری یا ملکی مفادات کے خلاف جانا میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا۔

لیکن۔۔۔

مجھ سمیت کروڑوں پاکستانی اس گندے نظام کے ڈسے ہوئے ہیں۔

اس ملک پر فرعونوں کا ایک ٹولہ مسلط ہے، جو غریب کے پیٹ سے نوالہ چھین رہے ہیں۔ غریب کی نہ مال و جان محفوظ ہیں اور نہ ہی دو ٹکے کی عزت میسر ہے۔

اس نظام نے ہمیشہ باغی پیدا کیے ہیں۔ اور بغاوت ایک فطری عمل ہے۔

مشرف رذیل نے دن دہاڑے فرعونیت میں مست ہو کر اکبر بگٹی کو گولیاں ماریں اور بلوچستان کو ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا ایندھن بنا دیا۔ اس پر موصوف نے اکتفا نہیں کیا۔ ایک قدم آگے بڑھ کر لال مسجد اور وزیرستان پر بھی چڑھائی کردی۔ یوں ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا آغاز کیا۔

فوج کو پرائی جنگوں میں جھونک کر پرویز مشرف نے ملک کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آج پرویز مشرف تو فوج کا ہیرو ہے، مگر جن کے خلاف جنگ چھیڑی گئی، وہ غدار اور خوارج ٹھہرے۔

اس جنگ کی بنیاد ایک گہرے انتقام پر مبنی بیانیے پر کھڑی ہے۔

کوئی شک نہیں کہ آج بیرونی ایجنسیاں یا پڑوسی ممالک ان باغیوں کو سپورٹ کرتے ہوں گے، مگر زخم تو ہم نے خود لگائے۔ دشمنوں کو موقع تو فوجی جرنیلوں نے دیا۔

عمران خان اور فیض حمید نے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔ نتیجتاً دونوں کو دہشت گردوں کا سہولت کار کہا گیا، اور آج دونوں پابندِ سلاسل ہیں۔

اس نظام نے ہر مخلص کی بیخ کنی کی۔ یہاں نظام فردِ واحد کی مرضی و منشا کا نام ہے۔ کسی آئین و قانون کی کوئی اہمیت نہیں۔

ایسے میں ایک لاپتہ بلوچ کے مسلح بھائی کو میں کس بنیاد پر غدار کہہ سکتا ہوں؟

ان کے پاس جنگ لڑنے کے ہزار جواز موجود ہیں۔ میرے پاس ان کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کا کوئی سبب موجود نہیں۔

قرآن کا قانون ہے کہ اگر ظالم کا ہاتھ نہیں روک سکتے تو مظلوم کے خلاف بھی نہ جائیں۔

وہ بلوچ عورتیں، جو پردہ اور خاندانی روایات کی امین تھیں، آج فوجی گاڑیوں کے سامنے کھڑی ہو کر فوجی جوانوں پر گولیاں برساتی ہیں۔

کیا وجہ ہے کہ وہ اس ایکسٹریم تک چلی گئیں؟

ہم پہلے جن لوگوں کو جہادی کہا کرتے تھے، وہ جو کبھی ہمارا فخر تھے، جب اپنے مفادات پورے کیے تو ٹیشو پیپر کی طرح ان کے خاندان والوں کو ایف سولہ کی بمباریوں کا نشانہ بنایا۔ درجنوں کو لاپتہ کیا، کئی ہزار کو مارا، ان پر زمین تنگ کی۔

آج وہ آپ کے کینٹوں پر حملہ آور ہیں تو دہشت گرد ٹھہرے۔

ہمارے ایک جاننے والے کو فوج نے اٹھایا۔ ملنسار اور اپنے کام سے کام رکھنے والے شخص تھے۔ بس ایک فوجی سورس کے ساتھ لڑائی ہوئی۔ چار سال تک غائب رہے، اور پھر ایک دن ان کی مسخ شدہ لاش ملی۔

کیا کل ان کے بچے اگر فوج پر حملہ آور ہوں تو مجھے روکنے کا کوئی حق ہے؟

میرے پاس خاموش رہنے کے علاوہ کوئی چوائس نہیں۔

احمد حسین طوری کی بزدلی کا یہ عالم ہے کہ ٹریفک پولیس والے بھی مجھے بلاوجہ حوالات میں بند کر سکتے ہیں، اور میرے پاس ان کے ساتھ مقابلہ کرنے کا کوئی وسیلہ نہیں۔

اگر کچھ نادان اپنی زیادتیوں کا جواب بندوق کی زبان میں دیتے ہیں تو مجھے ان پر نکتہ چینی کا کوئی حق نہیں۔

مجھ جیسے بزدلوں کی وجہ سے ہی تو یہ نظام قائم و دائم ہے۔

فوج کی ایک کال پر ہم جیسے سہم کر کئی کئی دن خاموش رہتے ہیں۔ دوسری طرف کچھ نادان ہیں جو سامنے آ کر خود کو بھی فنا کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی ابدی نیند سلاتے ہیں۔

میں کسی بھی مسلح جتھے کو گلوریفائی نہیں کر رہا۔

لیکن جب آپ کسی قوم کو دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم جیسے گیدڑ تو خاموش رہ جائیں گے، ریاست کے ہاں میں ہاں ملائیں گے، لیکن کچھ نادان تو اٹھ کر لاوا بن جائیں گے۔

یہ تو طے ہے۔

میرے پاس آٹھ ہزار لاپتہ بلوچ اور پشتون نوجوانوں کے خاندان والوں کے لیے کوئی جسٹیفیکیشن نہیں۔ میں انہیں نہیں ہراسکتا۔ وہ اگر ریاست کے خلاف قدم اٹھاتے ہیں تو میں ان کی حمایت تو نہیں کرسکتا، مگر مخالفت کا بھی کوئی دلیل نہیں۔

احمد حسین طوری سلگتے ہوئے انگاروں کو چھیڑنے کا قائل نہیں۔

میں تو ان انگاروں کے جلانے والوں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہوں۔

ان انگاروں پر چلنے والے نادانوں پر نکتہ چینی کا کوئی حق نہیں رکھتا۔۔۔

وما علینا إلا البلاغ المبین

احمد حسین طوری حفظہ اللہ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/why-i-dont-use-fitna-al-khawarij-fitna-al-hindustan-ahmed-hussain-toori-2026-09-30?lang=ur