مواد پر جائیں
تصدیق شدہتجزیہافغانستانپاکستانخطہ

تجزیاتی رپورٹ: پاکستان کی افغانستان میں مسلسل فضائی کارروائیاں، انسانی نقصان اور کابل کی پالیسی پر بڑھتا دباؤ

اکتوبر 2025 سے یکم اکتوبر 2026 تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان فضائی حملوں، سرحد پار جھڑپوں اور سفارتی کوششوں نے ایک سنگین انسانی بحران پیدا کیا۔ UNAMA کے مطابق یکم اکتوبر 2025 سے 30 جون 2026 تک افغانستان میں 499 شہری مارے گئے اور 1,216 زخمی ہوئے۔ یہ رپورٹ اعداد، اہم واقعات اور کابل کے سامنے موجود پالیسی اختیارات کا جائزہ لیتی ہے۔

شائع شدہ

8 منٹ مطالعہ

افغانستان اور پاکستان کا نقشہ — نمائندہ تصویر
تصویر: United Nations map / Wikimedia Commons · Public domainتصویر کا ماخذ

مدتِ جائزہ: اکتوبر 2025 تا یکم اکتوبر 2026

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات گزشتہ ایک برس میں محض سرحدی کشیدگی سے نکل کر ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں جہاں فضائی حملے، توپ خانے کی کارروائیاں، جوابی حملے اور سفارتی کوششیں ایک دوسرے کے ساتھ چل رہی ہیں۔ اس تنازعے کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس کا انسانی بوجھ افغان سرحدی آبادیوں پر مسلسل بڑھ رہا ہے۔

ایک سال میں کیا ہوا؟

اقوام متحدہ کے افغانستان مشن UNAMA کے مطابق یکم اکتوبر 2025 سے 30 جون 2026 تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار مسلح کارروائیوں کے نتیجے میں افغانستان کے اندر 499 شہری مارے گئے اور 1,216 زخمی ہوئے۔ یعنی صرف نو ماہ میں کم از کم 1,715 شہری متاثر ہوئے۔ UNAMA کے یہ اعداد صرف افغانستان کے اندر کے شہری جانی نقصان سے متعلق ہیں؛ پاکستان میں ہونے والا نقصان اس میں شامل نہیں۔

اس کے بعد بھی کشیدگی ختم نہیں ہوئی۔ 28 جون 2026 کے پاکستانی فضائی حملوں کے بارے میں UNAMA نے ابتدائی طور پر پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں کم از کم 28 شہریوں کی ہلاکت اور 49 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ بعد کی سہ ماہی رپورٹ میں یہی زخمیوں کی تعداد 189 تک revise کی گئی؛ پکتیا کے چمکنی میں 22 شہری مارے گئے اور کم از کم 185 زخمی ہوئے۔

یکم اکتوبر 2026 کو UNAMA نے کنڑ اور ہلمند میں مزید فضائی حملوں میں کم از کم 10 شہریوں، جن میں اکثریت بچوں کی تھی، کی ہلاکت اور 9 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ UNAMA کے مطابق 2026 میں اب تک سرحد پار مسلح تشدد سے 1,100 سے زیادہ شہری ہلاکتیں و زخمی ہو چکے ہیں۔

اہم واقعات کی مختصر ٹائم لائن

10–17 اکتوبر 2025: شدید سرحدی جھڑپیں — UNAMA کے مطابق 47 شہری مارے گئے اور 456 زخمی ہوئے۔ صرف اسپن بولدک میں ابتدائی طور پر 17 شہری ہلاکتیں اور 346 زخمی ریکارڈ کیے گئے۔

نومبر 2025: کنڑ، خوست، قندھار اور دیگر علاقوں میں حملوں کے نتیجے میں کم از کم 15 شہری مارے گئے اور 13 زخمی ہوئے۔ 24 اور 25 نومبر کی فضائی کارروائیوں میں زیادہ تر متاثرین بچے تھے۔

21–22 فروری 2026: ننگرہار اور پکتیکا میں پاکستانی فضائی حملے — UNAMA کے ابتدائی اعداد کے مطابق کم از کم 13 شہری مارے گئے اور 7 زخمی ہوئے۔

26 فروری–5 مارچ 2026: وسیع سرحدی جنگ، توپ خانے اور فضائی حملے — UNAMA نے 56 شہری ہلاکتیں اور 129 زخمی ریکارڈ کیے۔

16 مارچ 2026: کابل کے اومید منشیات بحالی مرکز پر پاکستانی فضائی حملہ — UNAMA کے مطابق مرکز متاثر ہوا اور درجنوں افراد کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔ UNAMA نے یاد دلایا کہ طبی مراکز کو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت خصوصی تحفظ حاصل ہے۔ اس حملے سے پہلے، 26 فروری سے UNAMA 76 شہری ہلاکتیں اور 213 زخمی ریکارڈ کر چکا تھا۔

27–29 اپریل 2026: کنڑ میں سرحد پار گولہ باری — بعد کی UNAMA رپورٹ کے مطابق 99 شہری متاثر ہوئے، جن میں 8 مارے گئے اور 91 زخمی ہوئے۔

28 جون 2026: پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں فضائی حملے — ابتدائی UNAMA بیان میں 28 ہلاک اور 49 زخمی تھے؛ بعد کی سہ ماہی رپورٹ میں 28 ہلاک اور 189 زخمی درج کیے گئے۔

21 ستمبر 2026: کنڑ میں فضائی حملہ — UNAMA کے مطابق 3 شہری مارے گئے اور 4 زخمی ہوئے۔

1 اکتوبر 2026: کنڑ اور ہلمند میں فضائی حملے — UNAMA نے 10 شہریوں کی ہلاکت اور 9 زخمیوں کی تصدیق کی۔

مارچ کا کابل حملہ: ایک فیصلہ کن موڑ

16 مارچ 2026 کو کابل میں اومید ڈرگ ٹریٹمنٹ ہسپتال کو پاکستانی فضائی حملے نے متاثر کیا۔ UNAMA نے کہا کہ درجنوں افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں اور اس نے واضح کیا کہ ہسپتال اور طبی مراکز بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت خصوصی تحفظ رکھتے ہیں۔ اس وقت تک، 26 فروری سے UNAMA کم از کم 76 شہری ہلاکتیں اور 213 زخمی ریکارڈ کر چکا تھا۔

یہ واقعہ اس لیے بھی اہم تھا کہ تنازعہ سرحدی علاقوں سے نکل کر افغانستان کے دارالحکومت تک پہنچ گیا۔

افغانستان کی “خاموشی” کیا واقعی خاموشی ہے؟

یہاں ایک اہم فرق کرنا ضروری ہے۔ کابل نے مکمل خاموشی اختیار نہیں کی۔ افغان حکام نے مختلف مواقع پر پاکستانی حملوں کی مذمت کی، پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے، جوابی فوجی کارروائیاں بھی کیں اور مذاکرات میں بھی شریک ہوئے۔ جون کے حملوں کے بعد افغان وزارت خارجہ نے بھی پاکستان کے حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔

لہٰذا اصل سوال شاید “خاموشی کیوں؟” سے زیادہ یہ ہے: کیا افغان حکومت کا ردعمل عوام کے نزدیک ان حملوں کے مقابلے میں کافی مؤثر نظر آ رہا ہے؟

فروری اور مارچ 2026 میں صورتحال اس قدر بگڑی کہ سرحدی جھڑپیں بڑے پیمانے کی جنگ میں تبدیل ہوئیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق 26 فروری سے 5 مارچ کے درمیان 185 شہری مارے یا زخمی ہوئے۔ OCHA کے ابتدائی اندازوں کے مطابق تقریباً 16,400 گھرانے متاثرہ صوبوں سے بے گھر ہوئے، جبکہ WFP نے متاثرہ علاقوں میں اپنی سرگرمیاں روک دیں جس سے تقریباً 160,000 افراد خوراک کی تقسیم سے متاثر ہوئے۔

کیا افغان عوام اس صورتحال کو “ہضم” کر لے گی؟

یہ سوال کسی حتمی پیش گوئی کا نہیں بلکہ عوامی ردعمل کے امکانات کا ہے۔ تین عوامل خاص طور پر اہم ہیں۔

1۔ مسلسل حملوں کا نفسیاتی اثر

ایک مرتبہ کا فضائی حملہ اور چیز ہے، لیکن جب عوام کو بار بار سرحدی علاقوں، گھروں، تعلیمی یا طبی مراکز اور دیگر شہری مقامات پر حملوں کا سامنا ہو تو معاملہ محض فوجی تنازع نہیں رہتا۔ اکتوبر 2025 سے جون 2026 تک 499 شہری ہلاکتوں اور 1,216 زخمیوں کا UNAMA ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ نقصان کسی ایک واقعے تک محدود نہیں رہا۔

2۔ حکومت سے تحفظ کی توقع

افغان عوام کے لیے بنیادی سوال یہ بن سکتا ہے کہ اگر ریاست اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کو روک نہیں سکتی تو عوام کو تحفظ کون دے گا؟ یہ سوال خاص طور پر پکتیکا، پکتیا، کنڑ، ننگرہار، خوست اور قندھار جیسے براہ راست متاثرہ صوبوں میں زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔ اگر حملے جاری رہتے ہیں اور ان کے مقابلے میں عوام کو صرف بیانات اور سفارتی احتجاج نظر آتا ہے، تو حکومت پر زیادہ واضح اور مؤثر پالیسی کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

3۔ دوسری طرف جنگ کا خوف

لیکن عوامی دباؤ کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ افغان عوام مکمل جنگ چاہے گی۔ افغانستان کئی دہائیوں کی جنگ کے بعد ایسا معاشرہ ہے جہاں ایک طرف بیرونی حملے کے خلاف شدید ردعمل پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ دوسری طرف طویل جنگ، مزید بے گھر ہونے، تجارت بند ہونے اور معاشی تباہی کا خوف بھی موجود ہے۔ عوامی جذبات بیک وقت دو سمتوں میں جا سکتے ہیں: “پاکستانی حملے بند کرو” اور ساتھ ہی “افغانستان کو ایک نئی طویل جنگ میں نہ دھکیلو۔”

کابل کے لیے اصل امتحان

افغان حکومت کے سامنے بنیادی طور پر تین پالیسی راستے نظر آتے ہیں۔

پہلا: سفارتی دباؤ — چین، قطر، سعودی عرب، ترکی، اقوام متحدہ اور دیگر علاقائی قوتوں کے ذریعے حملے رکوانے اور پائیدار انتظام تک پہنچنے کی کوشش۔

دوسرا: عسکری جواب — پاکستانی کارروائیوں کے جواب میں سرحد پر طاقت کا استعمال۔ ایسا قدم داخلی سطح پر طاقت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں مزید فضائی حملوں اور وسیع جنگ کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

تیسرا: سکیورٹی تنازع کی بنیادی وجہ پر مذاکرات — پاکستان کا بنیادی الزام یہ ہے کہ TTP افغان سرزمین سے پاکستان میں حملے کرتی ہے، جبکہ کابل اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔ پاکستان نے جولائی میں UNAMA کی شہری ہلاکتوں کی رپورٹ کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ اس کی کارروائیاں عسکریت پسندوں کے انفراسٹرکچر کے خلاف تھیں۔

چنانچہ جب تک TTP، سرحدی سلامتی، ڈیورنڈ لائن، باہمی اعتماد اور فضائی حملوں کے سوالات پر کوئی قابلِ عمل انتظام نہیں بنتا، جنگ بندی عارضی ثابت ہو سکتی ہے۔

نتیجہ

گزشتہ ایک سال نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو ایک خطرناک مرحلے تک پہنچا دیا ہے۔ UNAMA کے مطابق اکتوبر 2025 سے جون 2026 تک افغانستان کے اندر 499 شہری مارے گئے اور 1,216 زخمی ہوئے، جبکہ جون کے بعد بھی حملوں کا سلسلہ جاری رہا اور یکم اکتوبر 2026 کو مزید 10 شہری مارے گئے۔

اس لیے اسے محض “سرحدی جھڑپیں” کہنا صورتِ حال کے انسانی پہلو کو مکمل طور پر بیان نہیں کرتا۔ یہ ایک مسلسل انسانی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

افغان حکومت کی پالیسی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ ایک طرف پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو بڑھنے سے کیسے روکے اور دوسری طرف افغان عوام کو یہ کیسے یقین دلائے کہ ان کی جان، گھر اور سرزمین قابلِ دفاع ہیں۔ اگر حملے جاری رہے، شہری ہلاکتیں بڑھتی رہیں اور عوام کو محسوس ہوا کہ سفارتی احتجاج نتیجہ نہیں دے رہا، تو حکومت پر اندرونی دباؤ بڑھنا ایک اہم سیاسی عامل بن سکتا ہے؛ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ دباؤ لازماً کسی ایک مخصوص ردعمل یا پالیسی تبدیلی میں تبدیل ہوگا۔

مصنف کے نزدیک زیادہ پائیدار راستہ وہ ہوگا جس میں افغان شہریوں کا تحفظ، سرحد پار عسکری کارروائیوں کا خاتمہ، TTP سے متعلق پاکستان کے سکیورٹی خدشات کا قابلِ تصدیق حل اور براہِ راست سیاسی مذاکرات ایک ہی فریم ورک میں لائے جائیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ماہرین نے بھی مستقل جنگ بندی، تنازع کی بنیادی وجوہات کے حل اور بین الاقوامی قانون کی پابندی پر زور دیا ہے۔

اہم احتیاط: اوپر دیے گئے اعداد میں UNAMA کے دستاویزی اعداد کو ترجیح دی گئی ہے۔ فریقین کی جانب سے بعض واقعات میں مختلف ہلاکتوں کے اعداد جاری کیے گئے ہیں، اس لیے ابتدائی مقامی یا فریقی دعووں کو حتمی تعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔

نوٹ: یہ تجزیاتی مضمون مصنف ابرار ابراہیم کی رائے اور تشریح پر مبنی ہے۔ پالیسی سے متعلق تجزیاتی نتائج مصنف سے منسوب ہیں اور Margalla News کے ادارتی موقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/analysis-pakistan-afghanistan-airstrikes-civilian-casualties-kabul-policy-abrar-2026-10-01?lang=ur