ادارتی نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے۔ Margalla News نے اس میں شامل قابلِ تصدیق واقعات کو الگ سے چیک کیا ہے۔ دستیاب سرکاری اور معتبر ذرائع میں ہمیں ایسا ثبوت نہیں ملا کہ یہ مخصوص دعویٰ — کہ افغان قیادت نے ترک انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن سے اس لیے ملاقات نہیں کی کہ انہیں مغرب سے قریب سمجھا جاتا ہے — سرکاری ISPR سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے شروع ہوا تھا۔ اس لیے اس نسبت کو بطور حقیقت شائع نہیں کیا جا رہا۔
قطر میں تعینات امارتِ اسلامی افغانستان کے سفیر محمد سہیل شاہین نے یکم اکتوبر 2026 کو دوحہ میں ترکیہ کے نئے سفیر یعقوب جائماز اوغلو سے ملاقات کی۔ افغان سرکاری خبر رساں ادارے باختر کے مطابق گفتگو میں افغانستان اور ترکیہ کے سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی تعلقات، سرمایہ کاری کے مواقع، دوطرفہ تجارت اور حالیہ علاقائی پیش رفت شامل تھی۔ ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کی دوحہ مشن ویب سائٹ بھی یعقوب جائماز اوغلو کو قطر میں ترکیہ کا سفیر درج کرتی ہے۔
میرے نزدیک یہ ملاقات ایک اہم سفارتی اشارہ ہے۔ اس سے کم از کم یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ کابل اور انقرہ کے درمیان رابطہ منقطع نہیں ہوا اور دونوں فریق اقتصادی، تعلیمی اور علاقائی امور پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے وقت میں جب افغانستان، پاکستان اور ترکیہ سے متعلق سوشل میڈیا پر سخت اور متضاد بیانیے گردش کرتے ہیں، براہِ راست سفارتی رابطے ان تعلقات کی زیادہ پیچیدہ تصویر سامنے لاتے ہیں۔
تاہم ایک اہم فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ستمبر میں ترک انٹیلی جنس ادارے MIT کے سربراہ ابراہیم قالن نے افغانستان کا دورہ کیا تھا۔ ترک ذرائع کے مطابق انہوں نے کابل میں عبد الحق وثیق، ملا عبدالغنی برادر، محمد یعقوب مجاہد اور سراج الدین حقانی سمیت سینئر افغان حکام سے ملاقاتیں کیں اور سکیورٹی، انٹیلی جنس تعاون اور علاقائی امور پر گفتگو کی۔ قندھار میں ان کی موجودگی بھی رپورٹ ہوئی۔
دوسری جانب، افغانستان کے بعض میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا کہ قالن کی ہبت اللہ اخوندزادہ سے ملاقات نہیں ہوئی۔ 8صبح نے مقامی ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ ملاقات کا وعدہ تھا مگر آخری وقت میں ملاقات نہ ہوئی؛ اس رپورٹ میں وجہ نہیں بتائی گئی۔ افغانستان انٹرنیشنل نے بھی لکھا کہ قالن ہبت اللہ سے نہ مل سکے۔ بعد میں The Diplomat نے ایک مضمون میں یہ دعویٰ نقل کیا کہ انہیں مبینہ طور پر “Westernized” سمجھا گیا، مگر اس رپورٹ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس دعوے کا ماخذ سرکاری ISPR تھا۔
اسی لیے دوحہ میں سہیل شاہین اور ترک سفیر کی ملاقات کو سابقہ قندھار واقعے کی قطعی تردید سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ دونوں واقعات ایک ساتھ درست ہو سکتے ہیں: ایک مخصوص ملاقات نہ ہوئی ہو، جبکہ مجموعی افغان–ترک سفارتی، سکیورٹی اور اقتصادی رابطے جاری رہے ہوں۔
میری رائے میں اصل نکتہ یہی ہے۔ اگر کسی ایک مبینہ واقعے کو کابل اور انقرہ کے درمیان مکمل سردمہری کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جائے تو یکم اکتوبر کی دوحہ ملاقات، اور اس سے پہلے ترک انٹیلی جنس چیف کی متعدد افغان حکام سے ملاقاتیں، اس سادہ تصویر کو چیلنج کرتی ہیں۔ لیکن صحافتی اعتبار سے اتنا ہی ضروری ہے کہ سیاسی اختلاف یا تنقید کے باوجود غیر ثابت شدہ نسبت کو یقینی حقیقت نہ بنایا جائے۔
افغانستان اور ترکیہ کے تعلقات میں تجارت، تعلیم، سرمایہ کاری، سکیورٹی رابطے اور علاقائی سفارت کاری سب شامل ہیں۔ ان تعلقات کا درست جائزہ ایک خبر، ایک ملاقات یا ایک سوشل میڈیا دعوے سے نہیں بلکہ مسلسل سفارتی اور سرکاری رابطوں کے مجموعی ریکارڈ سے ہونا چاہیے۔
— عثمان احمد
