پاکستان سے واپس بھیجے گئے ایک افغان شہری نے کہا ہے کہ وطن واپسی کے تقریباً سات ماہ بعد بھی وہ اپنے خاندان کے ساتھ زابل میں خیمے میں زندگی گزار رہا ہے اور مستقل رہائش کا انتظام نہیں ہو سکا۔
آمو ٹی وی کی 5 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق محمد اشرف قلات کے قریب شیخ متی بستی میں مقیم ہے۔ اس نے بتایا کہ زمین کی تقسیم کے وقت واپس آنے والے خاندانوں کو معیاری گھروں کی فراہمی یا تعمیر میں مدد کی امید دلائی گئی تھی، لیکن اس کے خاندان کو اب تک مستقل گھر نہیں ملا۔
اشرف نے روزگار اور آمدنی کے مواقع کی کمی کی بھی شکایت کی اور کہا کہ بستی کا قلات شہر سے فاصلہ بنیادی خدمات تک رسائی مشکل بناتا ہے۔ رپورٹ میں دیگر واپس آنے والے خاندانوں کے مسائل کا بھی ذکر ہے۔
یہ معلومات متاثرہ شہری کے بیان اور آمو ٹی وی کی مقامی رپورٹنگ پر مبنی ہیں۔ حکام کی جانب سے اس مخصوص خاندان کے رہائشی دعوے کے بارے میں الگ جواب رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔
