یہ ایک رائے اور تجزیاتی تحریر ہے۔
امارت اسلامی افغانستان نے بدخشان کے دور افتادہ واخان خطے میں 121 کلومیٹر طویل شاہراہ کا باقاعدہ افتتاح کر کے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جسے میں خدائے ذوالجلال کی مدد، داخلی عزم اور مشکل جغرافیے پر انسانی ارادے کی کامیابی کے طور پر دیکھتا ہوں۔
یہ سڑک بروغل سے چین کی سرحد کے زیرو پوائنٹ تک جاتی ہے۔ معتبر رپورٹنگ کے مطابق منصوبہ دو مراحل میں مکمل ہوا اور اس پر مجموعی طور پر تقریباً 365 ملین افغانی لاگت آئی۔ آریانا نیوز کے مطابق اس میں 66 برساتی نالوں کے لیے کلورٹس، چار بڑے پل اور تقریباً 3,100 میٹر حفاظتی دیواریں شامل ہیں۔ بعض دیگر رپورٹس میں حفاظتی دیوار کی لمبائی تقریباً 4,000 میٹر بیان کی گئی، اس لیے یہاں زیادہ مضبوط طور پر رپورٹ ہونے والے 3,100 میٹر کے عدد کو ترجیح دی گئی ہے۔
میرے نزدیک اس منصوبے کی اصل اہمیت صرف سڑک بنانے میں نہیں بلکہ اس ذہنیت میں ہے جو ملک کے انتہائی دور افتادہ خطے کو قومی ترقی کے نقشے میں شامل کرتی ہے۔ واخان برسوں سے مواصلات، صحت، تعلیم، شناختی دستاویزات اور بنیادی سڑکوں جیسے مسائل سے دوچار رہا ہے۔
حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے افتتاحی تقریب میں کہا کہ واخان کے باشندوں کے 10 بڑے مسائل رہبر امارت اسلامی تک پہنچائے گئے تھے اور ان کے حل کے لیے اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے مخابراتی نیٹ ورک، تذکروں کی تقسیم، صحت کی سہولیات، سکولوں کی تعمیر اور سڑکوں کو ان بنیادی مسائل میں شمار کیا۔ فطرت نے اس پالیسی کو "متوازن ترقی" کے تصور سے جوڑا۔
اسی تقریب میں والی بدخشان رحمت اللہ نجیب نے دعویٰ کیا کہ صوبے کا کوئی حصہ امارت اسلامی کے کنٹرول سے باہر نہیں اور پورے بدخشان میں سکیورٹی قائم ہے۔ انہوں نے حکومت کے مخالف عناصر کو سخت تنبیہ بھی کی۔ یہ سکیورٹی دعوے حکومتی موقف ہیں اور انہیں اسی نسبت کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
میرے نزدیک واخان روڈ کی معاشی قدر اس وقت مزید بڑھے گی جب یہ محض علامتی افتتاح سے آگے بڑھ کر باقاعدہ تجارت، کسٹمز، بارڈر سہولت، ٹرانزٹ معاہدوں اور سال بھر قابلِ استعمال نقل و حمل کے نظام سے جڑ جائے۔ چین کے ساتھ براہِ راست زمینی رسائی افغانستان کے لیے ایک اہم موقع ہے، لیکن اس موقع کو حقیقی تجارتی کوریڈور میں بدلنے کے لیے مسلسل سرمایہ کاری، بارڈر مینجمنٹ اور علاقائی معاہدے ضروری ہوں گے۔
اس راستے کا جغرافیہ افغانستان کو چین کے سنکیانگ خطے سے ملاتا ہے۔ مستقبل میں اگر اس رابطے کو وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے تجارتی نیٹ ورکس سے مربوط کیا گیا تو واخان افغانستان کی علاقائی معاشی پوزیشن کو مضبوط کر سکتا ہے۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ راستہ ابھی چین، وسطی ایشیا، ایران، ترکیہ اور یورپ تک مکمل فعال کوریڈور بن چکا ہے۔
اس منصوبے کا ایک اور پہلو بھی اہم ہے: وزیرِ دیہی بحالی عبداللطیف منصور کے مطابق تعمیر میں غیر ملکی انجینئر یا مشیر شامل نہیں تھے اور کام افغان انجینئروں نے انجام دیا۔ اگر یہ ماڈل معیار، شفافیت اور دیکھ بھال کے ساتھ جاری رہتا ہے تو دور دراز علاقوں میں مقامی صلاحیت پر مبنی انفراسٹرکچر کی ایک قابلِ تقلید مثال بن سکتا ہے۔
واخان شاہراہ میرے لیے صرف 121 کلومیٹر بجری والی سڑک نہیں۔ یہ اس سوال کا جواب بھی ہے کہ کیا افغانستان اپنے دشوار ترین جغرافیے کو معاشی موقع میں بدل سکتا ہے؟ افتتاح نے راستہ کھول دیا ہے؛ اصل امتحان اب اس راستے کو تجارت، روزگار، خدمات اور مستقل علاقائی رابطہ کاری میں تبدیل کرنا ہے۔
— عثمان احمد
