مواد پر جائیں

ماسکو سے کابل تک: وہ دشمنی جو مفادات کی دوستی میں بدل رہی ہے

سوویت جنگ کی تلخ تاریخ سے 2025 کی روسی تسلیم، 2026 کے فوجی و تکنیکی معاہدے، تجارت اور ماسکو فارمیٹ تک—روس اور طالبان کے بدلتے تعلقات کے پیچھے سکیورٹی، جغرافیہ اور مفادات کی مکمل کہانی۔

شائع شدہ

10 منٹ مطالعہ

کبھی افغانستان کی پہاڑیوں میں سوویت ٹینک جلتے تھے، آج طالبان کے فوجی نمائندے روس میں جدید ڈرون، میزائل اور جنگی نظام دیکھ رہے ہیں۔ تاریخ نے دشمنی ختم نہیں کی؛ شاید اس نے صرف مفادات بدل دیے ہیں۔

کبھی ماسکو کا نام افغانستان میں سرخ فوج، بمباری، مزاحمت اور ایک طویل جنگ کی یاد سے جڑا ہوا تھا۔ دسمبر 1979 میں سوویت فوج افغانستان میں داخل ہوئی اور تقریباً ایک دہائی بعد فروری 1989 میں واپس چلی گئی۔ اس جنگ نے صرف افغانستان کو نہیں بدلا، پورے خطے کی سیاست بدل دی۔

طالبان اس وقت بطور تحریک موجود نہیں تھے۔ وہ کئی برس بعد، 1990ء کی دہائی میں افغان خانہ جنگی کے ماحول سے ابھرے۔ لیکن جس افغانستان میں طالبان پیدا ہوئے، اس کی سیاسی زمین پر سوویت جنگ کے گہرے نشانات پہلے سے موجود تھے۔

اسی لیے آج کا منظر غیر معمولی دکھائی دیتا ہے۔

اکتوبر 2026 میں افغان وزارتِ دفاع کا ایک اعلیٰ سطحی وفد روس کی سینٹر-2026 فوجی مشقوں میں مبصر کے طور پر شریک ہوا۔ افغان وزارتِ دفاع سے منسوب تفصیلات کے مطابق وفد نے عملی فوجی مشقیں دیکھیں اور بھاری ہتھیاروں، ڈرونز، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور روبوٹک فوجی نظاموں کی نمائش بھی دیکھی۔ یہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد روسی فوجی مشقوں میں افغان دفاعی وفد کی ایک نمایاں شرکت تھی۔

تقریباً چار دہائیاں پہلے افغانستان روسی طاقت کے لیے میدانِ جنگ تھا۔

آج وہی افغانستان روس کے لیے ممکنہ سکیورٹی پارٹنر، تجارتی راستہ اور جنوبی ایشیا تک پہنچنے کا ایک دروازہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

یہ تبدیلی کسی محبت کی کہانی نہیں۔

یہ مفادات کی کہانی ہے۔

ماسکو نے طالبان کو اچانک دریافت نہیں کیا

روس اور طالبان کا موجودہ تقارب 15 اگست 2021 سے شروع نہیں ہوا۔ ماسکو کئی برس پہلے ہی طالبان کے ساتھ رابطے قائم کر چکا تھا۔ 2018 اور 2019 میں روس نے افغانستان سے متعلق ایسے مذاکرات کی میزبانی کی جن میں طالبان نمائندے شریک ہوئے۔ یہ صورت حال اپنے اندر ایک عجیب تضاد رکھتی تھی: طالبان روس کے اندر قانونی طور پر ممنوع تنظیم تھے، لیکن انہی طالبان کے نمائندوں سے روسی سفارت کار سیاسی مذاکرات بھی کرتے تھے۔

2024 تک بات مزید آگے بڑھ چکی تھی۔ روس نے طالبان کے نمائندوں کو سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم میں مدعو کیا اور کھلے طور پر اس قانونی رکاوٹ کو دور کرنے پر غور شروع کردیا جو طالبان کے ساتھ مکمل تعلقات کی راہ میں موجود تھی۔

پھر واقعات تیزی سے آگے بڑھے۔

17 اپریل 2025 کو روس کی سپریم کورٹ نے طالبان کی سرگرمیوں پر عائد پابندی معطل کردی۔ پھر 3 جولائی 2025 کو روس طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا۔ ماسکو نے نئے افغان سفیر کے سفارتی اسناد قبول کیے اور ساتھ ہی سکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی، توانائی، ٹرانسپورٹ، زراعت اور بنیادی ڈھانچے میں تعاون بڑھانے کی بات کی۔

یہ محض ایک سفارتی تصویر نہیں تھی۔

ماسکو نے دراصل کابل سے کہا تھا: ہم آپ کو عارضی حقیقت نہیں، ریاستی حقیقت سمجھ کر معاملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

پھر معاملہ فوج تک پہنچ گیا

27 مئی 2026 کو روس اور افغان حکومت کے درمیان فوجی و تکنیکی تعاون کا معاہدہ سامنے آیا۔ روسی سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو اور افغان وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد اس عمل کے مرکزی کردار تھے۔

معاہدے کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے نہیں آئیں، لیکن بعد میں ملا یعقوب اور روسی نمائندے ضمیر کابلوف نے اس کے فوری دائرۂ کار کو نسبتاً واضح کیا: توجہ افغانستان کے پاس پہلے سے موجود روسی اور سوویت ساختہ فوجی سازوسامان، بالخصوص ہیلی کاپٹروں، طیاروں اور دیگر نظاموں کی مرمت اور دیکھ بھال پر ہے۔

یہ فرق اہم ہے۔ موجودہ معلومات اس نتیجے کی اجازت نہیں دیتیں کہ روس نے افغانستان کو کسی مخصوص نئے میزائل نظام، جنگی طیاروں یا بڑے اسلحہ پیکج کی فراہمی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ لیکن ایسا فریم ورک مستقبل میں پرزہ جات، تکنیکی تربیت، مرمت، ماہرین اور الگ الگ دفاعی معاہدوں کے لیے راستہ ضرور کھول سکتا ہے۔

اکتوبر میں افغان فوجی وفد کا روسی جنگی مشقوں تک پہنچنا اسی سفر کا اگلا منظر معلوم ہوتا ہے۔

اب سوال یہ نہیں کہ ماسکو طالبان سے بات کرتا ہے یا نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ یہ تعلق کہاں تک جائے گا؟

روس طالبان کے قریب کیوں آرہا ہے؟

اس سوال کا پہلا جواب نظریاتی نہیں بلکہ جغرافیائی ہے۔

افغانستان روس کی سرحد سے براہِ راست نہیں ملتا، مگر افغانستان کے شمال میں تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان واقع ہیں۔ وسطی ایشیا روس کے تاریخی، اقتصادی اور سکیورٹی مفادات کا اہم علاقہ ہے۔ افغانستان میں ایسی بدامنی جو شمال کی طرف پھیل سکے، ماسکو کے لیے محض ایک دور دراز افغان مسئلہ نہیں رہتی۔

خصوصاً داعش خراسان نے روسی سکیورٹی سوچ کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مارچ 2024 میں ماسکو کے قریب کروکس سٹی ہال پر ہونے والے خونریز حملے کی ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کی۔ اس حملے نے روس کو یاد دلایا کہ افغانستان اور وسطی ایشیا سے جڑے شدت پسند نیٹ ورک روسی سرزمین تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ روسی حکمتِ عملی کا بنیادی مفروضہ یہ بنتا دکھائی دیتا ہے کہ اگر کابل میں طالبان ہی اصل طاقت ہیں، تو داعش خراسان کے خلاف میدان میں بھی انہی کے ساتھ معاملہ کرنا پڑے گا۔

یہاں سیاست کا ایک پرانا اصول کام کرتا ہے:

ریاستیں ہمیشہ ان لوگوں کے ساتھ کام نہیں کرتیں جنہیں وہ پسند کرتی ہیں؛ اکثر انہیں ان لوگوں کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے جو زمین پر طاقت رکھتے ہیں۔

مگر بندوق کے پیچھے بازار بھی ہے

روس اور افغانستان کے تعلقات کو صرف فوجی زاویے سے دیکھنا غلط ہوگا۔

روس یوکرین جنگ اور مغربی پابندیوں کے بعد ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی طرف نئے تجارتی راستوں اور منڈیوں کی تلاش میں ہے۔ افغانستان اس نقشے میں ایک ایسا زمینی پل بن سکتا ہے جو وسطی ایشیا کو ایران، پاکستان اور آگے بحرِ ہند کے راستوں سے جوڑے۔

2025 میں روس اور افغانستان کے درمیان تجارت کے حجم کے بارے میں دونوں ممالک کے اعداد مختلف تھے۔ روسی نائب وزیر اعظم الیکسی اوورچک کے مطابق روسی اعداد میں یہ تقریباً 326 ملین ڈالر جبکہ افغان اعداد میں تقریباً 500 ملین ڈالر تھی۔ ان کے مطابق 2026 کے پہلے دو ماہ میں دو طرفہ تجارت گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 2.6 گنا بڑھی۔

نومبر 2025 میں تقریباً پانچ ہزار ٹن روسی ڈیزل کی ایک اہم ریل کھیپ ایران کے راستے خواف–ہرات ریلوے کے ذریعے افغانستان پہنچی۔ یہ محض تیل کا کاروبار نہیں تھا؛ اس میں ایک بڑے جغرافیائی نقشے کا اشارہ بھی موجود تھا—روس، ایران، افغانستان اور آگے جنوبی ایشیا تک متبادل تجارتی روابط۔

یعنی ماسکو کے لیے کابل میں صرف سکیورٹی نہیں، راستہ بھی ہے۔

اور عالمی سیاست میں کبھی کبھی راستے بندوقوں سے زیادہ اہم ہوجاتے ہیں۔

طالبان کو روس سے کیا چاہیے؟

طالبان کی ضرورت بھی واضح ہے۔

2021 میں دوبارہ کابل پر قبضے کے بعد ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ صرف حکومت کرنا نہیں تھا، بلکہ حکومت کے طور پر قبول کیا جانا بھی تھا۔

دنیا کے بیشتر ممالک طالبان حکام سے بات تو کرتے رہے، مگر باضابطہ تسلیم سے گریز کرتے رہے۔ خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار اور دیگر بنیادی حقوق پر عائد پابندیاں عالمی فاصلے کی بڑی وجوہ میں شامل رہیں۔ روس نے جولائی 2025 میں رسمی تسلیم دے کر طالبان کو وہ سفارتی کامیابی دی جو انہیں چار سال تک کسی دوسری حکومت سے نہیں ملی تھی۔

مگر طالبان کو صرف سفارتی مہر درکار نہیں۔

انہیں ایک ایسی فوج ورثے میں ملی جس کے پاس امریکی و نیٹو ساختہ سامان بھی ہے، روسی و سوویت نظام بھی، مگر طویل مدت میں کسی بھی فوج کو پرزوں، مرمت، تربیت، تکنیکی ماہرین اور مستقل سپلائی چین کی ضرورت ہوتی ہے۔

روس یہاں ایک ایسے شراکت دار کے طور پر سامنے آسکتا ہے جو سکیورٹی تعاون کو مغربی ممالک سے مختلف سیاسی فریم میں دیکھتا ہے۔

اسی لیے روسی تعلق طالبان کے لیے صرف ایک دوست حاصل کرنے کا معاملہ نہیں۔

یہ اختیارات بڑھانے کی حکمتِ عملی بھی ہے۔

چین ہو، ایران ہو، وسطی ایشیا ہو، بھارت ہو یا روس—کابل اگر کئی دارالحکومتوں سے بیک وقت تعلق قائم کرتا ہے تو وہ کسی ایک ملک پر انحصار کم کرسکتا ہے۔

اور پھر پاکستان کا سوال آتا ہے

یہیں روس–افغان تعلق سب سے زیادہ حساس ہوجاتا ہے۔

پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات گزشتہ برسوں میں تیزی سے خراب ہوئے ہیں۔ اسلام آباد کا الزام ہے کہ تحریک طالبان پاکستان افغانستان کی سرزمین استعمال کرکے پاکستان میں حملے کرتی ہے؛ کابل اس الزام کو مسترد کرتا ہے اور مسئلے کو پاکستان کا داخلی معاملہ قرار دیتا ہے۔ سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں نے تعلقات کو مزید کشیدہ کردیا ہے۔ یکم اکتوبر 2026 کے پاکستانی فضائی حملوں کے بعد بھی دونوں جانب متضاد دعوے اور سخت الزامات سامنے آئے۔

ایسے ماحول میں روس–افغان فوجی تعاون کو اسلام آباد لازماً غور سے دیکھے گا۔

لیکن یہاں ایک اہم احتیاط ضروری ہے۔

ابھی ایسا معتبر ثبوت موجود نہیں کہ روس کی افغان پالیسی بنیادی طور پر پاکستان کے خلاف بنائی گئی ہے۔ روس کے پاکستان کے ساتھ بھی سفارتی، اقتصادی اور علاقائی مفادات موجود ہیں۔ زیادہ قرینِ قیاس یہ ہے کہ ماسکو کابل اور اسلام آباد دونوں سے تعلق برقرار رکھ کر اپنا اثر بڑھانا چاہتا ہے۔

5 اکتوبر 2026 کو ماسکو میں ہونے والے آٹھویں ماسکو فارمیٹ اجلاس میں افغانستان کے ساتھ پاکستان، چین، ایران، بھارت اور وسطی ایشیائی ممالک شریک ہیں۔ روسی نمائندے ضمیر کابلوف نے اس اجلاس کو کابل اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی پر بات کرنے کے لیے بھی استعمال کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی اجلاس میں شرکت کے لیے روس کے دورے پر گئے ہیں اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ الگ ملاقات بھی طے ہے۔

یہ تصویر شاید روسی حکمتِ عملی کو سب سے بہتر بیان کرتی ہے:

ماسکو صرف طالبان کا دوست نہیں بننا چاہتا؛ وہ اس میز کا میزبان بننا چاہتا ہے جہاں افغانستان کے بارے میں باقی سب بیٹھیں۔

تاریخ شاید دائرے میں نہیں چلتی

1979 کا ماسکو افغانستان میں اپنی پسند کی حکومت بچانے کے لیے فوج لے کر داخل ہوا تھا۔

2026 کا ماسکو کابل پر قبضہ نہیں چاہتا۔

وہ اثر چاہتا ہے۔

تب سوویت فوج افغانستان کے اندر تھی۔ آج روس کوشش کررہا ہے کہ افغانستان کے فیصلوں کے گرد موجود ہو۔

تب افغانستان ایک نظریاتی اور فوجی مقابلے کا میدان تھا۔ آج وہ تجارت، دہشت گردی، وسطی ایشیا کی سلامتی، جنوبی ایشیا کے راستوں اور بڑی طاقتوں کی نئی مسابقت کا سنگم بنتا جارہا ہے۔

اور طالبان بھی اب صرف ایک مسلح تحریک کی حیثیت سے دنیا سے بات نہیں کررہے۔ حکومت چلانے کے لیے انہیں سفارت خانے، تجارت، ایندھن، ریلوے، فوجی سازوسامان کی مرمت، سرمایہ کاری اور خارجی قبولیت جیسے عملی مسائل سے نمٹنا پڑتا ہے۔

یہیں روس اور طالبان کی ضرورتیں ایک دوسرے کو چھوتی ہیں۔

ماسکو کو ایک نسبتاً مستحکم افغانستان چاہیے جس سے داعش شمال کی طرف نہ پھیلے، مغربی فوجی اثر واپس نہ آئے اور روسی تجارت کے لیے جنوب کی سمت امکانات کھلیں۔

طالبان کو ایک ایسی بڑی طاقت چاہیے جو انہیں حکومت مانے، ان کے ساتھ تجارت کرے، سلامتی پر بات کرے اور ان کی فوجی صلاحیت کی تکنیکی بحالی میں مدد دے سکے۔

یہ دوستی شاید اعتماد پر قائم نہیں۔

یہ ضرورتوں کے تقاطع پر قائم ہے۔

اور بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات یہی تعلق سب سے دیرپا ثابت ہوتا ہے۔

افغانستان اور روس کے درمیان آج جو کچھ ہورہا ہے، اسے صرف اس جملے میں سمیٹ دینا کہ “روس طالبان کو ہتھیار دے رہا ہے” اصل کہانی کو بہت چھوٹا کردے گا۔

اصل کہانی کہیں بڑی ہے۔

ایک سابق قابض طاقت افغانستان میں دوبارہ داخل ہورہی ہے— مگر اس بار ٹینکوں کے ساتھ نہیں، سفارت کاری، تجارت، سکیورٹی معاہدوں اور اثر و رسوخ کے ساتھ۔

اور شاید اس پوری تبدیلی کا سب سے معنی خیز منظر یہی ہے:

جن پہاڑوں کے سائے میں کبھی ماسکو اور افغان مزاحمت ایک دوسرے کے خلاف تاریخ لکھ رہے تھے، ان سے آنے والے ایک نئے افغان اقتدار کے نمائندے آج روسی جنگی مشقوں میں کھڑے جدید ہتھیار دیکھ رہے ہیں۔

وقت نے ماضی نہیں مٹایا۔

اس نے صرف مفادات کا نقشہ بدل دیا ہے۔

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/opinion-russia-taliban-afghanistan-moscow-kabul-interests-2026-10-05?lang=ur