خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے مخالفین کا سب سے وزنی سوال یہ ہے کہ جس حکومت کو عوام نے منتخب کیا تھا، اسے انتظامی ناکامی کے وفاقی الزام کی بنیاد پر کس معیار اور کس ثبوت کے تحت بے اختیار کیا جا سکتا ہے؟ 11 اکتوبر کو صدر آصف علی زرداری کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف نے اسے مسترد کیا۔ رائٹرز کے مطابق پارٹی کے ترجمان ذوالفقار بخاری نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ قدم کشیدگی اور عدم استحکام بڑھا سکتا ہے۔
منتخب مینڈیٹ کی دلیل اپنی جگہ اہم ہے، لیکن آئینی جمہوریت میں منتخب حکومت کسی قانونی نگرانی سے بالاتر نہیں ہوتی۔ اسی لیے اصل تنازع محض یہ نہیں کہ حکومت منتخب تھی؛ بنیادی سوال یہ ہے کہ آرٹیکل 234 کی شرائط واقعی پوری ہوئیں یا نہیں۔ اس دفعہ کا اطلاق صوبے کے آئینی انتظام میں ناکامی کی غیر معمولی صورتحال سے متعلق ہے، عام سیاسی اختلاف سے نہیں۔ شرط کے نفاذ کا ثبوت، عمل کا ریکارڈ اور نگرانی کا طریقۂ کار اہم رہیں گے۔
ووٹر نے کس کو اختیار دیا تھا؟
جمہوری نظام میں منتخب صوبائی اسمبلی محض چند سیاسی چہروں کا مجموعہ نہیں ہوتی؛ اس کے پیچھے لاکھوں ووٹروں کی نمائندگی ہوتی ہے۔ گورنر راج کے مخالفین کے نزدیک بنیادی خطرہ یہی ہے کہ وفاقی اور صوبائی جماعتوں کے درمیان اختلاف کا بوجھ ووٹر کے فیصلے پر ڈال دیا جائے۔ اس اعتراض کو سنجیدگی سے لینے کا مطلب یہ نہیں کہ منتخب حکومت ہر قانونی جواب دہی سے آزاد ہے؛ اس کا مطلب ہے کہ انتظامی اختیار معطل کرنے کا معیار عام سیاسی تنقید سے بہت بلند ہونا چاہیے۔
جب منتخب حکومت کے خلاف ناکامی کا الزام لگے تو ایک آئینی جمہوریت میں ثبوت، تناسب اور متبادل طریقوں پر بات ضروری ہوتی ہے۔ کیا ناقص کارکردگی کے لیے صوبائی اسمبلی کے اندر سیاسی جواب دہی کا راستہ کافی تھا؟ کیا مشترکہ سکیورٹی انتظام کو بہتر بنایا جا سکتا تھا؟ کیا کم وسیع مداخلت سے مسئلہ حل ہونے کی گنجائش تھی؟ یہ سوال مخالفین کے لیے بھی اہم ہیں اور حکومت کے دفاع کے لیے بھی۔
احتجاج اور دہشت گردی کو ایک بحث بنا دینے کا مسئلہ
اس بحران کا ایک منفرد پہلو تحریک انصاف کا اسلام آباد مارچ تھا۔ رائٹرز نے احتجاج، مذاکرات کی ناکامی اور وفاق کے ممکنہ اقدامات کو ایک ہی سیاسی منظرنامے کا حصہ قرار دیا۔ مخالفین کی تشویش اس تناظر میں پیدا ہوتی ہے کہ ایک پارٹی کے احتجاجی پروگرام کو ریاستی سکیورٹی کے انتظامی سوال سے غیر واضح طریقے پر جوڑا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف وفاقی حکام نے احتجاجی سرگرمیوں کے ساتھ سکیورٹی خطرات کا بھی حوالہ دیا۔
صحافتی انصاف کا تقاضا ہے کہ دونوں باتیں الگ رکھی جائیں۔ کسی جماعت کے احتجاج کے حق یا مخالفت کا موقف اور دہشت گردی سے بچاؤ کے لیے حکومتی ذمہ داری، دونوں کے قانونی معیار مختلف ہیں۔ ان کو ایک دوسرے کی جگہ استعمال کرنا سیاسی بحث کو زیادہ تیز لیکن حقائق کو کم واضح کر سکتا ہے۔
صوبائی خودمختاری کا عملی مفہوم
صوبائی خودمختاری کا مطلب صرف یہ نہیں کہ وزیراعلیٰ صوبائی دارالحکومت میں دفتر رکھتا ہے۔ اس میں بجٹ، انتظامی فیصلوں، قانون سازی اور عوامی نمائندگی کے اختیارات کا ایک مکمل ڈھانچہ شامل ہے۔ ان میں تبدیلی کے بعد یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ فیصلے کس ادارے کے پاس منتقل ہوئے اور ان پر عوامی نگرانی کی صورت کیا بنی۔
یہاں تاریخ 2009 کے پنجاب جیسے واقعات کی یاد دلاتی ہے، جہاں گورنر راج نے وسیع سیاسی تنازع کو جنم دیا اور پھر نظام کی بحالی کے لیے سیاسی عمل کو جگہ دینا پڑی۔ 2026 کے لیے اس مثال کو قطعی نتیجے کی شکل دینا درست نہیں، مگر یہ بتاتا ہے کہ قانونی اعلان سیاسی تنازع کے خاتمے کی ضمانت نہیں۔
ایک مؤثر مخالفانہ مؤقف کی ذمہ داری
گورنر راج کے خلاف موقف رکھنے والی جماعت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ محض مینڈیٹ کا حوالہ نہ دے بلکہ انسدادِ دہشت گردی کے لیے اپنی کارکردگی اور مستقبل کا عملی منصوبہ واضح کرے۔ متاثرہ علاقوں کے لوگوں کی سلامتی منتخب نمائندگی کے ساتھ ساتھ ایک بنیادی حق ہے۔ جو فریق اپنے مؤقف میں صرف ایک حق کی بات کرے اور دوسرے کو بھول جائے، اس کی دلیل ادھوری رہے گی۔
سنجیدہ اختلاف کی یہی خوبصورتی ہے کہ مخالفانہ کالم نعرہ نہیں بلکہ سوالات کا واضح مجموعہ پیش کرے، اور ہر سوال کے جواب کے لیے درست سرکاری و آزاد ماخذ مانگے۔
سیاسی تناظر بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پانچ اکتوبر کی رائٹرز رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں تحریک انصاف کا مارچ عمران خان کی رہائی کے لیے منظم کیا جا رہا تھا، اور وفاقی و صوبائی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کے معاملات پر بات چیت ناکام ہو چکی تھی۔ اس پس منظر میں مخالفین کی تشویش یہ ہے کہ سکیورٹی کا حقیقی مسئلہ اور سیاسی احتجاج کے خلاف ردعمل ایک دوسرے سے خلط ملط نہ ہو جائیں۔
تاہم صرف سیاسی اختلاف کا حوالہ دے کر سکیورٹی کے خطرات کو کم اہم ظاہر کرنا بھی درست نہیں۔ شہریوں کو دہشت گردی سے تحفظ دینا وفاق اور صوبے دونوں کی ذمہ داری ہے۔ ناقدانہ مؤقف کو مضبوط بنانے کے لیے یہ دکھانا ضروری ہے کہ مشترکہ ادارہ جاتی طریقۂ کار، متبادل انتظامی اصلاح یا محدود مداخلت سے وہی مقاصد حاصل کیے جا سکتے تھے جو گورنر راج کے لیے بیان کیے گئے۔
اس تنازع میں انصاف کا ایک عملی معیار دوہرا ہے: وفاق شواہد کے ساتھ واضح کرے کہ صوبائی انتظام آئینی طور پر کیوں ناقابلِ عمل ہو چکا تھا، اور صوبائی جماعت یہ واضح کرے کہ انسدادِ دہشت گردی کے لیے اس کا قابلِ عمل متبادل کیا تھا۔ محض نعرے یا ایک دوسرے کے ارادوں پر حملے ان دو سوالات کا جواب نہیں۔
گورنر راج کے خلاف آئینی اعتراض کی سنجیدہ صورت وہ ہے جو قانون، ثبوت، نمائندگی اور شہری تحفظ کو ایک ساتھ دیکھے۔ ایک جمہوری نظام میں منتخب اختیار کے خاتمے کا سوال اتنا سنگین ہے کہ اس پر غیر معمولی شفافیت لازم سمجھی جانی چاہیے۔
