11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت کے مؤقف کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ریاستی سلامتی اور عوام کے تحفظ کو سیاسی تعطل کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ نے صدر کو ایمرجنسی اور گورنر راج کی سفارش کرتے ہوئے صوبائی حکومت پر انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں سے الگ ہونے کا الزام عائد کیا۔ یہ حکومتی دعویٰ ہے؛ اس الزام کی ہر جزوی تفصیل آزادانہ طور پر ثابت ہونا الگ سوال ہے۔
اس دلیل کا سب سے اہم پہلو سکیورٹی کے اعدادوشمار ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے ستمبر 2026 کے ماہانہ جائزے میں ملک بھر میں 225 عسکریت پسند حملے شمار کیے گئے، جب کہ اگست میں 199 حملے تھے۔ ادارے نے بلوچستان کو مجموعی حملوں کا سب سے بڑا مرکز قرار دیا، مگر خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں میں حملوں کی شدت اور ہلاکت خیزی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ یہ ڈیٹا صورتحال کی سنگینی ظاہر کرتا ہے، لیکن خود بخود یہ نتیجہ نہیں دیتا کہ صوبائی آئینی نظام معطل کرنا واحد دستیاب راستہ تھا۔
خطرے کا ثبوت اور حل کا ثبوت الگ ہیں
حکومتی دلیل کے اندر دو الگ مراحل ہیں جنہیں اکثر ایک ہی فقرے میں بیان کر دیا جاتا ہے۔ پہلا مرحلہ یہ ثابت کرنا ہے کہ دہشت گردی اور انتظامی خلل واقعی سنگین ہیں۔ دوسرا یہ ثابت کرنا ہے کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے منتخب صوبائی انتظام کو معطل کرنا ضروری اور متناسب قدم تھا۔ پہلا مرحلہ حملوں، ہلاکتوں اور سکیورٹی اداروں کے ریکارڈ سے جانچا جا سکتا ہے؛ دوسرے کے لیے بین الحکومتی رابطوں، ناکام تعاون کی نوعیت اور متبادل اقدامات کا جائزہ درکار ہوگا۔
یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ وفاق نے سکیورٹی خطرات کے جواب میں پہلے کن محدود راستوں پر کام کیا۔ کیا مشترکہ رابطہ مرکز مؤثر تھا، کیا صوبائی پولیس اور وفاقی اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا واضح طریقہ موجود تھا، اور اگر رابطہ منقطع ہوا تو اس کے ذمہ داروں کی تحریری نشاندہی کی گئی؟ جب تک یہ کڑیاں واضح نہ ہوں، محض خطرے کی شدت انتظامی مداخلت کے ہر پہلو کا ثبوت نہیں بن سکتی۔
ریاستی تسلسل، سیاسی اختلاف سے بالاتر
ایک ملک میں وفاق اور صوبے کی حکومتیں مختلف جماعتوں کی ہوں تب بھی عوام کا تحفظ مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس اصول کا مطلب یہ نہیں کہ صوبے کا سیاسی اختلاف ختم کر دیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پولیس، انسدادِ دہشت گردی، انٹیلی جنس، عدالتوں اور عوامی خدمت کے اداروں کو ایسا عملی ڈھانچہ دیا جائے جو سیاسی اختلاف کے باوجود چل سکے۔
وفاقی مؤقف کے حامی یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ایسا تعاون مسلسل ممکن نہ ہو تو غیر معمولی آئینی بندوبست پر غور ریاست کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ اس دلیل کے مقابل سوال یہ ہوگا کہ عدم تعاون کا ریکارڈ کہاں ہے اور کیا صورتِ حال واقعی آئین کے مطابق صوبائی حکومت نہ چل سکنے کی حد تک پہنچ چکی تھی؟ دلیل کی مضبوطی ان سوالات کے واضح جواب سے مشروط ہے۔
پچھلے تجربات کا انتباہ
بلوچستان میں 2013 کے گورنر راج کا فیصلہ انتہائی سنگین دہشت گرد حملوں کے بعد سامنے آیا تھا، مگر اس تجربے کے بعد بھی صوبے سے دہشت گردی فوراً ختم نہیں ہوئی۔ یہ تاریخی حقیقت خیبر پختونخوا کے حالات کی مکمل مثال نہیں بنتی، البتہ یہ ضرور بتاتی ہے کہ کسی بڑے انتظامی فیصلے کو فوری سکیورٹی کامیابی کا مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔
اگر گورنر راج کے دور میں کوئی بہتری سامنے آئے تو اسے صرف نیا سیاسی نام دینے کی بجائے آپریشنل اقدامات سے جوڑنا ہوگا۔ کتنے مقدمات کی تفتیش آگے بڑھی، مقامی فورسز کی تربیت اور وسائل میں کیا اضافہ ہوا، متاثرہ علاقوں میں شہری اعتماد کا کیا حال رہا؟ یہی معیار وفاق کی پیش کردہ دلیل کو حقیقی جانچ فراہم کریں گے۔
طاقت کے ساتھ جواب دہی کا معاہدہ
ہنگامی اختیارات استعمال کرنے والی حکومت پر معمول سے زیادہ شفافیت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ مدت محدود ہو، پارلیمان کو جواب دیا جائے اور شہری حقوق کے تحفظ کا ریکارڈ دستیاب ہو۔ آرٹیکل 234 کی پارلیمانی نگرانی اسی مقصد کے لیے اہم ہے۔ کسی بھی فیصلے کو درست یا غلط کہنے سے پہلے اختیار کے استعمال کے طریقے، ضرورت اور نتائج کو الگ الگ جانچنا چاہیے۔
ایک منصفانہ تجزیہ وفاقی حکومت کے سکیورٹی خدشات کو سنجیدہ لیتا ہے، مگر ان سے ہر قانونی و سیاسی نتیجہ خودکار طور پر اخذ نہیں کرتا۔ کسی آئینی اقدام کی سب سے مضبوط دفاعی دلیل وہ ہوگی جس کے ساتھ ثبوت، حدود اور قابلِ پیمائش نتائج بھی موجود ہوں۔
گورنر راج کی حمایت میں پیش کی جانے والی قانونی دلیل یہ ہو سکتی ہے کہ اگر منتخب صوبائی حکومت کے ذریعے آئین کے مطابق نظم چلانا ناممکن ہو جائے تو وفاق کے لیے آرٹیکل 234 میں مخصوص ہنگامی راستہ موجود ہے۔ اسی آئین میں اس اختیار کی حدود، مشترکہ اجلاس میں منظوری اور مدت کی پابندی بھی درج ہے۔ اس لیے قانونی اختیار کا وجود اس کے ہر ممکن استعمال کی خودکار توثیق نہیں کرتا۔
حکومتی مؤقف کی عملی جانچ اس بات سے ہوگی کہ نئے انتظام کے نتیجے میں پولیس، انسدادِ دہشت گردی محکمے، پراسیکیوشن اور وفاقی اداروں کے درمیان تعاون کیسے بہتر ہوا۔ اگر معلومات کا تبادلہ تیز ہو، ذمہ داریاں واضح ہوں اور شہریوں کا تحفظ بہتر بنایا جا سکے تو یہ نتائج وفاق کے پیش کردہ جواز کے لیے اہم ثبوت بن سکتے ہیں۔ اگر انتظامی تبدیلی کے باوجود حملے، خوف اور بداعتمادی برقرار رہیں تو اس دلیل کے اثرات پر مزید سوالات اٹھیں گے۔
اصل کسوٹی غیر معمولی حکم جاری کرنا نہیں بلکہ غیر معمولی اختیارات کے لیے شفاف جواب دہی فراہم کرنا ہے۔ وفاق کو یہ بتانا ہوگا کہ کن اقدامات کی پہلے کوشش ہوئی، وہ ناکام کیوں ہوئے اور نئے بندوبست کی کامیابی کن قابلِ پیمائش اشاریوں سے طے کی جائے گی۔ حکومتی دلیل کو سنجیدگی سے پرکھنے کا طریقہ یہی ہے۔
