افغانستان کی بڑی آبادی کی معاشی زندگی زراعت اور مویشی بانی سے جڑی ہے۔ اسی وجہ سے زرعی ترقی کا اثر دیہی آمدنی، خوراک کی دستیابی اور شہروں تک پہنچنے والی اشیا کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (FAO) نے 2026 میں خبردار کیا کہ کھاد کی بڑھتی قیمتیں افغانستان کی آئندہ گندم کی فصل کے لیے دشواریاں پیدا کرسکتی ہیں۔ ادارے نے موسمیاتی لچک، بہتر زرعی خدمات اور کسانوں کو مارکیٹ سے جوڑنے کے اقدامات کا ذکر بھی کیا۔
پانی کی کمی، غیر یقینی موسم اور مہنگے بیج و کھاد ایسے عوامل ہیں جو کسی کاشتکار کے منافع پر براہِ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔ اگر پیداوار بہتر بھی ہو جائے تو اسٹوریج، نقل و حمل اور منڈی کی لاگت کسان کی آمدنی محدود کرسکتی ہے۔
آبپاشی کی سہولت، موزوں فصلوں کی تربیت اور موسمی خطرات کی بروقت اطلاعات سے زرعی نظام کو جھٹکوں کا مقابلہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم کسی ایک منصوبے سے قومی سطح پر غذائی تحفظ کا مسئلہ فوری طور پر حل نہیں ہوتا۔
افغانستان کی زرعی ترقی کو سمجھتے وقت پیداوار کے ساتھ کسان کی اصل لاگت اور گھرانوں کی خوراک تک رسائی بھی دیکھی جانی چاہیے۔
