افغانستان کی ترقی پر گفتگو میں نئی عمارتوں، شاہراہوں اور تجارتی معاہدوں کے ساتھ گھریلو زندگی کے اعداد کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی مئی 2026 کی سماجی و اقتصادی رپورٹ کے مطابق ملک میں 2025 کے دوران تقریباً 74 فیصد آبادی بنیادی ضروریات پوری نہ کر پانے کی صورتحال سے دوچار تھی۔ ادارے نے محدود روزگار، بین الاقوامی امداد میں کمی، خشک سالی اور بڑی تعداد میں واپس آنے والے افراد کے دباؤ کو اہم عوامل قرار دیا۔
تعمیرات سے روزگار مل سکتا ہے، مگر ان کا فائدہ برقرار رکھنے کے لیے کام کی نوعیت، اجرت، بجلی، پانی اور نقل و حمل جیسی خدمات بھی اہم ہیں۔ دوسری طرف بے روزگاری اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ایسے گھرانوں کے لیے شدید مسئلہ بن سکتا ہے جن کے پاس بچت کم ہے۔
اس تناظر میں ترقی کا ایک قابلِ پیمائش معیار یہ ہوگا کہ روزگار کے نئے مواقع کتنے پیدا ہوئے، کتنے خاندانوں کو صاف پانی اور علاج میسر آیا اور کتنے بچوں کی تعلیم جاری رہ سکی۔
افغانستان کی معاشی بحالی کے جائزے میں امید افزا منصوبوں اور انسانی ضروریات، دونوں کو ساتھ رکھنا ضروری ہے؛ نہ ہر اعلان مکمل کامیابی ہے اور نہ ہر رکاوٹ ترقی کی تمام کوششوں کی نفی کرتی ہے۔
