افغانستان میں مجموعی قومی پیداوار کی شرح بڑھنے کی خبر بظاہر حوصلہ افزا محسوس ہوتی ہے، مگر یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا عام خاندان کی مالی حالت اسی رفتار سے بہتر ہو رہی ہے؟
عالمی بینک کی مئی 2026 کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی حقیقی معاشی ترقی کا تخمینہ 4.8 فیصد لگایا گیا، جبکہ 2025 میں آبادی میں تقریباً 11 فیصد اضافے کی وجہ سے فی کس مجموعی پیداوار میں 5.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس فرق کو سمجھے بغیر معیشت کی تصویر مکمل نہیں ہوتی۔
اگر مجموعی پیداوار بڑھ رہی ہو لیکن آبادی، روزگار کی ضرورت اور بنیادی سہولتوں کی طلب اس سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہو تو اوسط فرد تک فائدہ کم پہنچ سکتا ہے۔ واپس آنے والے افغان خاندانوں کو رہائش، صحت، تعلیم اور آمدنی کے مواقع بھی درکار ہیں۔
رپورٹ میں بجلی کی غیر یقینی فراہمی، مالی خدمات کی کمی، کم سرمایہ کاری اور تجارتی خسارے جیسے مسائل کا ذکر ہے۔ معاشی پیش رفت جانچنے کے لیے صرف GDP نہیں بلکہ فی کس آمدنی، ملازمتوں، حقیقی اجرت، غذا اور مقامی کاروبار کی حالت کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔
یہ نتیجہ کسی ایک حکومت یا جماعت کی کارکردگی کی درجہ بندی نہیں، بلکہ عالمی بینک کے شائع کردہ معاشی اعداد کا توضیحی مطالعہ ہے۔
