افغانستان میں کاروباری خواتین کی بڑی مشکلوں میں سے ایک مستقل اور قابلِ اعتماد مالی سہولتوں کی کمی ہے۔ گھریلو یا چھوٹے صنعتی کاروبار شروع کرنے کے لیے بچت کے ساتھ خام مال، تربیت اور خریداروں تک رسائی بھی ضروری ہوتی ہے۔
ستمبر 2026 میں UNDP اور UN Women نے خواتین کے کاروبار کی معاونت کے لیے ایک مشترکہ منصوبے کا اعلان کیا۔ اداروں کے مطابق ابتدائی 17 لاکھ ڈالر کے ذریعے آئندہ ایک سال میں تقریباً 1,500 خواتین کاروباری افراد کی مدد کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ کاروباری تربیت اور مالی و ڈیجیٹل خواندگی بھی پروگرام کا حصہ ہیں۔
اسی اعلان کے مطابق افغانستان میں سات فیصد سے کم خواتین کے پاس بینک اکاؤنٹ یا موبائل منی کی سہولت موجود ہے۔ اس صورتحال میں مالی خدمات تک رسائی کو کاروبار کے مواقع کے ساتھ جوڑنا اہم ہوسکتا ہے۔
منصوبے کی کامیابی جانچنے کے لیے صرف جاری کردہ رقم نہیں بلکہ کاروبار کے برقرار رہنے، آمدنی میں تبدیلی، قرض کی واپسی اور نئی ملازمتوں کو دیکھنا ہوگا۔ منصوبے میں مدد پانے کا ہدف اور حقیقی نتائج الگ معلومات ہیں۔
خواتین کے معاشی کردار پر بحث میں مالی مشکلات، مقامی پابندیوں اور دستیاب عملی مواقع کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
