اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) نے جمعرات کو خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے انتخاب کو چیلنج کرنے والی رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کی درخواست نمٹا دی۔ جیو نیوز کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں بینچ نے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد درخواست کو غیر مؤثر قرار دیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ شیر افضل مروت خود عدالت میں پیش ہوئے جبکہ سہیل آفریدی کی نمائندگی ان کے وکیل سید علی بخاری نے کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ موجودہ حالات میں درخواست پر کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی کیونکہ سہیل آفریدی اس وقت وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز نہیں ہیں۔
بینچ کے رکن جسٹس باقر نجفی نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج الگ معاملات ہیں اور وزیر اعلیٰ کے خلاف کیس اب زندہ مسئلہ نہیں رہا۔
شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ وہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو بھی چیلنج کرنا چاہتے ہیں، اور مختصر التوا کی استدعا کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر مستقبل میں گورنر راج اور ایمرجنسی ختم ہوئی تو سہیل آفریدی دوبارہ عہدے پر بحال ہو سکتے ہیں۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ مستقبل میں بحال ہوئے تو درخواست گزار کارروائی کی بحالی کے لیے متفرق درخواست دائر کر سکتے ہیں۔ دی نیوز اور ہم نیوز نے بھی درخواست غیر مؤثر قرار دے کر نمٹائے جانے کی خبر دی ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے حال ہی میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا جس کی قومی اسمبلی اور سینیٹ نے توثیق کی، جبکہ پی ٹی آئی نے اس اقدام کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔
