پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بدھ کو پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی گئی اور اس میں عدالت سے صوبے کی منتخب حکومت بحال کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
ڈان کے مطابق درخواست میں 11 اکتوبر کے ایمرجنسی اعلان کو غیر آئینی اور کالعدم قرار دینے، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کو مکمل اختیارات کے ساتھ بحال کرنے، اور انہیں اور صوبائی کابینہ و اسمبلی کے ارکان کو حراست سے رہا کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ درخواست میں آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں فوج کی تعیناتی کے حکم، گورنر فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں قائم 11 رکنی کے پی ایڈوائزری کونسل اور 12 اضلاع کے لیے بنائے گئے ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آرٹیکل 232(1) کے تحت اندرونی خلفشار کی بنیاد پر ایسے اعلان کے لیے صوبائی اسمبلی کی پیشگی قرارداد ضروری ہے، جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں ایسی کوئی قرارداد پیش یا منظور نہیں ہوئی۔ درخواست میں یہ دلیل بھی دی گئی ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑی تعداد میں واقعات کے باوجود وہاں ایمرجنسی نافذ نہیں کی گئی۔ عدالت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وفاق اور گورنر وہ تمام ریکارڈ پیش کریں جس کی بنیاد پر ایمرجنسی نافذ کی گئی، جس میں گورنر کی رپورٹ اور وفاقی کابینہ کی سمری شامل ہے۔
درخواست میں وفاق، صوبہ خیبر پختونخوا، گورنر، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور محکمہ داخلہ کے سیکریٹری کو فریق بنایا گیا ہے، جبکہ سہیل آفریدی کو رسمی فریق کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق درخواست میں جلد سماعت کی استدعا بھی کی گئی ہے۔ رپورٹ ہونے تک سماعت کی تاریخ مقرر نہیں ہوئی تھی۔
جیو نیوز کے مطابق بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان اقدامات نے صوبے کی جمہوری حکومت کو عملاً ختم کر دیا ہے اور پارٹی آئینی و قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی سہیل آفریدی کے ٹھکانے کا پتا لگانے کے لیے بھی عدالت سے رجوع کر رہی ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم کے مشورے پر 11 اکتوبر کو آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور انسداد دہشت گردی میں صوبائی حکومت کے تعاون کی کمی کے باعث یہ قدم ضروری تھا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ بدھ کو اس اعلان کی توثیق کر چکے ہیں۔
