اسلام آباد: جیو نیوز کے مطابق عالمی بھوک انڈیکس 2026 میں پاکستان جنوبی ایشیا کا دوسرا بدترین ملک قرار پایا ہے، اور خطے میں صرف افغانستان کی صورتحال اس سے زیادہ خراب ہے۔
جی ایچ آئی کی ویب سائٹ پر جاری رپورٹ کے مطابق پاکستان کا اسکور 25.5 ہے، جو بھوک کی 'سنگین' سطح کو ظاہر کرتا ہے۔ افغانستان 28.6 اسکور کے ساتھ خطے میں سب سے نیچے ہے، جبکہ جنوبی ایشیا کا مجموعی اسکور 23.5 اور عالمی اسکور 18.1 ہے۔
رپورٹ کے مطابق جن 122 ممالک کا مکمل ڈیٹا دستیاب تھا، ان میں پاکستان 106ویں نمبر پر ہے۔ تاہم طویل مدت میں بہتری بھی ریکارڈ کی گئی ہے: سن 2000 میں پاکستان کا اسکور 36.2 تھا جو اب کم ہو کر 25.5 پر آ گیا ہے۔
انڈیکس چار پیمانوں پر مبنی ہے: آبادی کا وہ حصہ جسے ضرورت کے مطابق کیلوریز نہیں ملتیں، پانچ سال سے کم عمر بچوں میں قد کا عمر کے لحاظ سے کم رہ جانا (اسٹنٹنگ)، قد کے لحاظ سے وزن کم ہونا (ویسٹنگ)، اور پانچ سال کی عمر سے پہلے بچوں کی اموات۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 16.1 فیصد آبادی ناکافی غذا کا شکار ہے، جبکہ پانچ سال سے کم عمر 33.6 فیصد بچوں کا قد عمر کے لحاظ سے کم ہے۔ 9.8 فیصد بچے قد کے لحاظ سے کم وزن ہیں اور 5.6 فیصد بچے پانچ سال کی عمر سے پہلے ہی دم توڑ جاتے ہیں۔
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب چند روز قبل عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے منگل کو جاری اپنی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں پیش گوئی کی تھی کہ رواں مالی سال 2026-27 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 2025-26 کے 7.1 فیصد سے بڑھ کر 9.9 فیصد ہو جائے گی۔
