برسلز: جیو نیوز کے مطابق یورپی پارلیمنٹ میں عالمی طرزِ حکمرانی کے مستقبل پر ہونے والے اجلاس میں دو یورپی قانون سازوں نے سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے مؤقف کی کھل کر حمایت کی۔
رپورٹ کے مطابق چیک جمہوریہ سے تعلق رکھنے والے رکن یورپی پارلیمنٹ آندرے دوستال نے معاہدے پر پاکستان کے مؤقف کی تائید کی، جبکہ جرمن رکن مائیکل فان ڈیر شولنبرگ نے کہا کہ عالمی برادری کو معاہدے پر عمل درآمد اور اس کی پاسداری یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
بیلجیئم، لکسمبرگ اور یورپی یونین میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام عالمی استحکام اور بین الاقوامی قانون کی ساکھ کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کے خدشات اجاگر کیے اور مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ ریاستوں کے تعلقات برابری کے اصول پر استوار ہونے چاہییں اور اقوام متحدہ میں اصلاحات کے عمل میں تمام فریقین کی رائے شامل کی جانی چاہیے۔ انہوں نے عالمی مالیاتی نظام کی اصلاح، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے زیادہ بین الاقوامی تعاون پر بھی زور دیا۔
جیو نیوز کے مطابق بھارت نے اپریل 2025 میں مقبوضہ کشمیر میں ایک حملے کے بعد معاہدے کو معطل رکھنے کا اعلان کیا تھا، جسے پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔
عالمی بینک کی ثالثی میں 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائے سندھ کے نظام کے پانی کی تقسیم کو منظم کرتا ہے۔ اسلام آباد خبردار کر چکا ہے کہ پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج ہوں گے۔
