اسلام آباد: پاکستان اور سلطنتِ عمان نے بدھ 14 اکتوبر کو مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے چھ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا۔ دستاویزات پر دستخط وزیر اعظم ہاؤس میں وزیر اعظم شہباز شریف کی موجودگی میں ہوئے، جہاں عمانی وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی پاک عمان مشترکہ وزارتی کمیشن (جے ایم سی) کے آٹھویں اجلاس کی مشترکہ صدارت کے لیے موجود تھے۔
جیو نیوز کے مطابق نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سید بدر نے جے ایم سی کے آٹھویں اجلاس کے منٹس، سفارتی، خصوصی، سرکاری اور سروس پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے باہمی ویزا استثنیٰ کے معاہدے اور ریکارڈز و آرکائیوز سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ باقی تین یادداشتیں اطلاعات و نشریات، انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، اور خبروں کے تبادلے و میڈیا تعاون سے متعلق ہیں، جن پر متعلقہ وفاقی وزرا نے دستخط کیے۔
عمانی وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں تصدیق کی کہ ایک معاہدے، چار مفاہمتی یادداشتوں اور جے ایم سی اجلاس کے منٹس پر دستخط ہوئے۔ عمانی بیان کے مطابق یادداشتوں میں عمان کی نیشنل ریکارڈز اینڈ آرکائیوز اتھارٹی اور نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کے درمیان تعاون بھی شامل ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ملاقات میں عمان کو برادر ملک، اہم سمندری ہمسایہ اور ایک اسٹریٹجک خطے میں قیمتی شراکت دار قرار دیا اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر مسقط کے اصولی مؤقف کو سراہا۔
ڈان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا اور آبنائے ہرمز اور باب المندب سے محفوظ اور آزادانہ جہاز رانی کی اہمیت اجاگر کی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ 'مذاکرات اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، تنازع کسی مسئلے کا حل نہیں۔'
عرب نیوز کے مطابق دونوں ممالک نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کی مذمت بھی کی، جن میں ایک پاکستانی جاں بحق اور پانچ زخمی ہوئے تھے۔ ڈان کے مطابق مشترکہ وزارتی کمیشن کا نواں اجلاس عمان میں ہوگا۔
