اسلام آباد: ڈان کے مطابق اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) نے بدھ کو حکومت کے ساتھ تمام مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات اور ان کی صحت سے متعلق معلومات کی فراہمی تک کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔
یہ فیصلہ محمود خان اچکزئی کی رہائش گاہ پر اتحاد کی قیادت کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں طے پایا کہ مذاکرات کا تمام اختیار صرف چیئرمین اچکزئی کے پاس ہو گا۔
اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کو آئین پر "آدھی رات کا حملہ" اور "ڈکیتی" قرار دیتے ہوئے اس کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا، اور اعلان کیا گیا کہ اس اقدام کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی۔ واضح رہے کہ وفاق نے اتوار کو صوبے کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کی جنگ سے "دانستہ لاتعلقی" کو جواز بنا کر آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کیا تھا۔
ٹی ٹی اے پی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی، پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر اور گرفتار ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ اتحاد نے تقریباً تین ہفتوں سے ایم پی او کے تحت زیرِ حراست عمران خان کی بہنوں کی رہائی، عمران خان سے ملاقات اور ڈاکٹروں تک رسائی کا بھی مطالبہ کیا۔
اتحاد نے نیشنل ایکشن پلان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے خیبر پختونخوا اسمبلی سے منظور شدہ امن جرگہ قرارداد پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں بلوچستان میں مکالمے پر بھی بات ہوئی اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کا منصوبہ بھی زیرِ غور آیا۔ مزید تفصیل ڈان پر۔
