مواد پر جائیں

بجلی صارفین پر نیا بوجھ: 2.56 روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے ستمبر 2026 کی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے تحت صارفین سے 2.5624 روپے فی یونٹ اضافی وصولی کی اجازت مانگ لی ہے، جس پر نیپرا 29 اکتوبر کو سماعت کرے گا۔

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

اسلام آباد: ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے-جی) نے ڈسکوز کی جانب سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں درخواست دائر کی ہے کہ ستمبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 2.5624 روپے فی یونٹ اضافہ منظور کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق یکساں ٹیرف پالیسی کے تحت یہ اضافہ کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی لاگو ہونے کا امکان ہے۔ نیپرا نے اس درخواست پر عوامی سماعت 29 اکتوبر کو مقرر کی ہے۔

درخواست میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر کے لیے ریفرنس فیول لاگت 7.4596 روپے فی یونٹ تھی، اور مجوزہ اضافہ اسی ریفرنس اور مہینے کے دوران ایندھن پر آنے والی اصل لاگت کا فرق ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں مجموعی طور پر 13,217 گیگا واٹ آور بجلی پیدا ہوئی، جبکہ ترسیلی نقصانات کے بعد ڈسکوز کو 12,760 گیگا واٹ آور فراہم کی گئی۔ پن بجلی 4,834 گیگا واٹ آور (36.58 فیصد) کے ساتھ سب سے بڑا ذریعہ رہی، درآمدی کوئلے کا حصہ 16.31 فیصد اور جوہری بجلی کا 14.32 فیصد رہا۔

مہنگے ایندھن نے لاگت بڑھائی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل سے بننے والی بجلی 62.14 روپے فی یونٹ، فرنس آئل سے 44.86 روپے اور آر ایل این جی سے 39.74 روپے فی یونٹ پڑی۔ درآمدی کوئلے کی بجلی 17.23 روپے فی یونٹ رہی، جبکہ مقامی کوئلہ تقریباً 5.99 روپے اور جوہری بجلی 2.90 روپے فی یونٹ کے ساتھ سستے ذرائع میں شامل رہے۔

اگر نیپرا درخواست منظور کر لیتا ہے تو یہ اضافہ آئندہ بلوں میں صارفین سے وصول کیا جائے گا۔

مزید تفصیل ایکسپریس ٹریبیون پر۔

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-17-discos-seek-rs2-56-fca-hike-september?lang=ur