ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی کور اور سیاسی کمیٹیوں نے اتوار کو ہونے والے اجلاس میں لانگ مارچ کی ناکامی کی تحقیقات کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کر دی۔
اہم نکات
- اجلاس میں زیادہ تر شرکا نے ناقص تیاری، کمزور رابطے اور مشاورت کی کمی کی نشاندہی کی
- ذرائع کے مطابق کئی شرکا نے معطل وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کو انتظامی کوتاہیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا
- سلمان اکرم راجہ نے بعد میں آفریدی کا دفاع کیا
اجلاس میں کیا ہوا؟
اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اجلاس میں لانگ مارچ پر تفصیلی بحث ہوئی۔ پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے نشاندہی کی کہ چارسدہ اور مردان سے شرکت خاص طور پر کم رہی اور رات گزارنے کے لیے خیموں سمیت بنیادی انتظامات نہیں کیے گئے تھے۔
بعض شرکا کا کہنا تھا کہ یہ سرگرمی منظم لانگ مارچ کے بجائے ایک غیر واضح سڑکوں کی تحریک بن گئی تھی، جس میں نہ پیش قدمی کے مقامات طے تھے اور نہ ہی لاجسٹکس یا حکمتِ عملی۔
آفریدی پر تنقید اور دفاع
ذرائع کے مطابق متعدد شرکا نے انتظامات کی خامیوں کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو قرار دیا۔ تاہم سلمان اکرم راجہ نے انہیں عمران خان کے نظریے سے وابستہ ایک جرات مند نوجوان رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتظامات کا تنقیدی جائزہ ضروری ہے، مگر کور کمیٹی کی بحث کو سیاق و سباق سے ہٹا کر آفریدی کے خلاف پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔
دیگر تجاویز
اجلاس میں بیرسٹر محمد علی سیف کو جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی کے معاملات سونپنے پر بھی غور ہوا۔ بعض شرکا نے مطالبہ کیا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے پاس موجود ذمہ داریاں پارٹی کے اپنے ارکان کو دی جائیں۔ اچکزئی قومی اسمبلی اور ناصر عباس سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف ہیں۔
پس منظر
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، جسے بعد میں 4 اکتوبر تک مؤخر کر دیا گیا۔ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو دہشت گردی میں اضافے اور صوبائی حکومت کی مبینہ ناکامی کو جواز بنا کر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی، جس کے بعد صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہو گئی۔
مزید تفصیل ایکسپریس ٹریبیون پر۔
