بنوں: ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پولیس نے پیر کو پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رکنِ قومی اسمبلی مولانا نسیم علی شاہ کو بنوں کے علاقے غوری والا میں واقع ان کے مدرسے المرکز الاسلامی سے حراست میں لے لیا۔
اہم نکات
- سوشل میڈیا پر ویڈیو میں مبینہ طور پر پولیس اہلکار ایم این اے کو ساتھ لے جاتے دکھائی دیتے ہیں
- یہی ویڈیو ایم این اے کے ایکس اکاؤنٹ سے بھی شیئر کی گئی
- گرفتاری کی وجہ، مقدمات اور ان کے موجودہ مقام کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی
- گرفتاری خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد پی ٹی آئی کے خلاف کارروائیوں کے دوران ہوئی
ویڈیو میں کیا ہے؟
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کو رکنِ اسمبلی کو اپنے ساتھ لے جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اخبار کے مطابق یہ ویڈیو نسیم علی شاہ کے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے بھی پوسٹ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق گرفتاری کے حالات، ان کے خلاف درج مقدمات (اگر کوئی ہیں) اور کارروائی کے بعد ان کے ٹھکانے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
گورنر راج کے بعد کریک ڈاؤن
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ گرفتاری ایسے وقت ہوئی ہے جب وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی، جس کے بعد صوبے میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ غیر فعال وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی بھی 'حفاظتی تحویل' میں لیے جانے والوں میں شامل ہیں۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے تصدیق کی تھی کہ آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان کو احتیاطی تحویل میں رکھا گیا ہے۔ صوابی اور ضلع خیبر سمیت صوبے کے مختلف حصوں سے بھی پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات ہیں۔
حکومت اور پی ٹی آئی کا مؤقف
وفاقی حکومت نے گورنر راج کی وجہ سکیورٹی خدشات اور صوبائی حکومت کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں سے مبینہ لاتعلقی بتائی ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے ان اقدامات کو غیر آئینی قرار دے کر پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ اس معاملے پر سیاسی ردعمل یہاں پڑھیں۔
مزید تفصیل ایکسپریس ٹریبیون پر۔
