تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پاکستان نے افغانستان کے بارے میں اپنا مؤقف ایک جملے میں سمیٹ دیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کو ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے محدود اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی افغان طالبان حکومت سے "صرف ایک توقع ہے: کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو"۔
پرامن افغانستان، پرامن خطہ
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم، خطے سے جڑا ہوا اور خوشحال افغانستان دیکھنا چاہتا ہے جو اپنے اندر بھی پرامن ہو اور اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ بھی۔ ان کے بقول پاکستان نے افغانستان کی ترقی اور اس کے عوام کی بہبود کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار امن اور سلامتی کے بغیر خطے میں مستحکم معاشی ترقی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، اور افغانستان میں استحکام پورے خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن ہمسائیگی علاقائی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔
توانائی اور ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری پر زور
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ خطے کے معاشی انضمام کے لیے توانائی اور ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی شعبوں میں ہدف شدہ سرمایہ کاری ضروری ہے، اور پاکستان زراعت، کان کنی، معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بھی سرمایہ کاری بڑھانے کا حامی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے 2024 میں اسلام آباد میں سربراہانِ حکومت کونسل کے اجلاس کی میزبانی کی تھی، اور اس سال ایس سی او کے انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے کی صدارت مکمل کی۔ غربت کے خاتمے سے متعلق ورکنگ گروپ کے سربراہ کے طور پر پاکستان اس سال غربت میں کمی کے لیے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے کردار کو اجاگر کرنا چاہتا ہے۔
پس منظر
یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر حالیہ دنوں میں جھڑپوں کی اطلاعات آتی رہی ہیں، اور پاکستان بارہا الزام لگاتا رہا ہے کہ اس کے خلاف حملے کرنے والے گروہ افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں۔
مزید تفصیل کے لیے ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ دیکھیں۔
