مواد پر جائیں

میر رضا قتل: کمیشن نے پولیس تفتیش کو ناکام قرار دے دیا

کراچی کے نوجوان کاروباری میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے پولیس تفتیش کو 'سنگین ناکامی' قرار دیتے ہوئے آئی ایس آئی، آئی بی، رینجرز اور این سی سی آئی اے پر مشتمل جے آئی ٹی بنانے کی سفارش کی ہے۔

شائع شدہ

3 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

پچیس سالہ میر رضا علی آئی بی اے کے گریجویٹ تھے اور کراچی میں وافلکس کے نام سے وافلز کا کاروبار چلاتے تھے۔ 28 جولائی کی صبح وہ پی ای سی ایچ ایس میں اپنے گھر سے لاپتہ ہوئے اور اگلی صبح ان کی لاش گلستانِ جوہر سے ملی۔ قریباً تین ماہ بعد ایک جوڈیشل کمیشن نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ یہ خودکشی نہیں، قتل تھا، اور پولیس تفتیش اپنی بنیادی ذمہ داری میں ناکام رہی۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس عمر سیال پر مشتمل یک رکنی کمیشن نے 15 اکتوبر کو اپنی رپورٹ وزیرِ اعلیٰ سندھ کو پیش کی۔ اخبار نے رپورٹ کے خلاصے کا جائزہ لیا ہے۔

خودکشی کا نظریہ کیسے گرا

پولیس نے ابتدا میں موت کو خودکشی قرار دیا تھا، جبکہ اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ لاش پر تشدد کے نشانات تھے۔ کمیشن کے مطابق اگست کے اوائل میں پولیس سرجن نے پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی کی، وہی رپورٹ جس پر پولیس کا خودکشی کا نظریہ کھڑا تھا۔ 8 اگست کو قبر کشائی ہوئی اور اگست کے آخر میں جاری حتمی رپورٹ نے پیٹھ کی جانب سے لگنے والی گولی کو موت کی وجہ قرار دے کر خودکشی کا امکان رد کر دیا۔ اس کے بعد ایف آئی آر میں قتل اور شواہد مٹانے کی دفعات شامل کی گئیں۔

کمیشن نے لکھا کہ گولی کا زاویہ، زخم کی غیر معمولی جگہ، خون کی عدم موجودگی، تیزاب سے جلنے کے نشانات اور خون میں بے ہوشی کی دوا کی موجودگی، سب خودکشی کو خارج از امکان قرار دیتے ہیں۔

"بغیر منزل کا جہاز"

رپورٹ میں پولیس تفتیش کو "ایک ایسا جہاز" کہا گیا ہے "جسے اپنی منزل کا علم نہیں"۔ کمیشن کے مطابق پولیس کا نظریہ چند غیر مصدقہ پیغامات، منتخب ویڈیو فوٹیج اور ایک ایسی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر کھڑا تھا جس نے خود بھی خودکشی کا نتیجہ نہیں نکالا تھا۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ تفتیش کے ابتدائی مرحلے میں "دانستہ پردہ پوشی" کے امکان کو حتمی طور پر رد نہیں کیا جا سکتا، اور یہ کہ درجنوں پولیس اہلکاروں نے شواہد کو کسی ریکارڈ کے بغیر ہاتھ لگایا۔

کمیشن نے میڈیکل بورڈ کی راتوں رات تبدیلی کو بھی محکمۂ صحت کے اعلیٰ حکام کی "غیر قانونی اور ناقابلِ فہم مداخلت" قرار دیا۔ البتہ 9 اگست کو وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے بارے میں کمیشن کو ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ وہ ڈاکٹر پر دباؤ ڈالنے کے لیے بلایا گیا تھا۔

جے آئی ٹی اور ایف آئی اے انکوائری کی سفارش

کمیشن کا کہنا ہے کہ پولیس اور معاشرے کے درمیان اعتماد کا فقدان اب "تقریباً ناقابلِ تلافی" ہو چکا ہے اور بڑی حد تک شواہد متاثر ہو چکے ہیں، اس لیے یہ مقدمہ اب صرف انٹیلی جنس پر مبنی تفتیش سے حل ہو سکتا ہے۔ اس نے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں آئی ایس آئی، آئی بی، رینجرز سندھ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے نمائندوں پر مشتمل جے آئی ٹی بنانے کی سفارش کی، اور کہا کہ پولیس اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کر کے معافی مانگے۔

کمیشن نے یہ بھی تجویز دی کہ ترجیحاً ایف آئی اے کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی جانچ کرے کہ تفتیش کے پہلے دس دنوں میں شامل پولیس افسران نے شواہد مٹانے اور غلط ریکارڈ تیار کرنے سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں کی، اور قصورواروں کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے۔

سندھ کابینہ کی عملدرآمد کمیٹی

کمیشن نے 20 کھلی سماعتوں میں 50 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔ ترجمان کے مطابق وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کی صدارت میں کابینہ اجلاس میں رپورٹ پیش کی گئی، جس کے بعد وزیرِ داخلہ ضیاء الحسن لنجار، ناصر حسین شاہ، سعید غنی اور ایڈووکیٹ جنرل پر مشتمل ذیلی کمیٹی سفارشات پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے بنا دی گئی۔

مکمل تفصیل کے لیے ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ دیکھیں۔

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-20-mir-raza-judicial-commission-report-jit-police-failure?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

پاکستان کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں