پارلیمان کی رکنیت ختم ہونے کے بعد بھی سرکاری بلیو پاسپورٹ جیب میں رکھنے کا حق اب صرف پوری مدت گزارنے والوں تک محدود نہیں رہے گا۔ جیو نیوز کے مطابق سینیٹ نے پیر کو پاسپورٹ ایکٹ 1974 میں ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت وہ سابق ارکانِ قومی اسمبلی اور سینیٹرز بھی یہ پاسپورٹ رکھ سکیں گے جنہوں نے حلف تو اٹھایا مگر مدت پوری ہونے سے پہلے ایوان چھوڑ دیا۔
تاہم یہ بل ابھی قانون نہیں بنا۔ اسے نافذ ہونے سے پہلے قومی اسمبلی سے بھی منظوری درکار ہے۔
موجودہ قانون میں فرق کیا ہے؟
اس وقت ارکانِ قومی اسمبلی حلف اٹھاتے ہی بلیو پاسپورٹ کے اہل ہو جاتے ہیں، جبکہ سینیٹرز کو اس کے لیے اپنی چھ سالہ مدت پوری کرنی پڑتی ہے۔ پاسپورٹ رولز 2021 کے تحت سابق ارکان کو یہ سہولت اسی صورت ملتی ہے جب انہوں نے کسی ایک ایوان میں کم از کم ایک مکمل مدت گزاری ہو۔
دونوں بل سینیٹر عبدالقادر نے پیش کیے تھے۔ منظور شدہ بل کے ذریعے ایکٹ میں نئی دفعہ 3-اے شامل کی جائے گی، جس کے مطابق کوئی بھی سابق رکن، خواہ اس نے پوری مدت گزاری ہو یا کسی دوسرے رکن کی بقیہ مدت، طے شدہ شرائط کے تحت اپنا مفت سرکاری پاسپورٹ رکھ اور استعمال کر سکے گا۔ بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ اس سے دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے برابر مراعات اور یکساں سلوک یقینی ہوگا۔
جیو نیوز کے مطابق سرکاری بلیو پاسپورٹ آئینی عہدیداروں، سرکاری و عدالتی افسران، سینئر بیوروکریٹس اور ان کے اہل زیرِ کفالت افراد کو جاری کیے جاتے ہیں، اور ان پر یورپ کے 22 ممالک سمیت 55 ممالک میں ویزا فری داخلہ ممکن ہے۔
اہلِ خانہ کے لیے بل کیوں واپس ہوا؟
اسی اجلاس میں ایک دوسرا بل بھی زیرِ غور تھا، جس میں تجویز دی گئی تھی کہ سابق ارکان کی شریکِ حیات اور 28 سال سے کم عمر زیرِ کفالت بچوں کو بھی مفت بلیو پاسپورٹ دیا جائے۔ متعلقہ سینیٹ کمیٹی نے جولائی میں اس کی منظوری دی تھی، جس پر سرکاری سفری سہولت کو خاندانوں تک پھیلانے پر تنقید ہوئی تھی۔ حکومتی بینچوں کی مخالفت کے بعد یہ بل واپس لے لیا گیا۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ یورپی ممالک اور کینیڈا کے اعتراضات کے بعد پاکستان میں جاری سرکاری بلیو پاسپورٹس کی تعداد 75 ہزار سے کم ہو کر 45 ہزار رہ گئی ہے اور تقریباً 30 ہزار غیر ضروری یا غیر فعال پاسپورٹ منسوخ کیے گئے ہیں۔
"پاسپورٹ کی حفاظت اور وقار پاکستان کے عوام کے وقار کا معاملہ ہے،" انہوں نے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ارکانِ پارلیمنٹ کو بلیو پاسپورٹ دینے پر اعتراض نہیں، لیکن یہ سہولت خاندانوں تک بڑھانے پر تشویش ہے، کیونکہ ایسے پاسپورٹس کی بڑی تعداد دوسرے ممالک کو ویزا فری رسائی دینے سے ہچکچانے پر مجبور کر سکتی ہے۔
اب نظریں قومی اسمبلی پر ہیں، جہاں اس بل کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔
مزید تفصیل کے لیے جیو نیوز کی رپورٹ دیکھیں۔
