تنخواہ دار پاکستانی کی جیب سے کٹنے والا ٹیکس دو برس میں تقریباً ڈیڑھ گنا ہو گیا، مگر دکانداروں، زمینداروں اور جائیداد کے کاروبار سے آنے والا حصہ بدستور معمولی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہی تضاد منگل کو اس وقت نمایاں ہوا جب آئی ایم ایف کے ریجنل ڈائریکٹر جہاد ازعور نے اسلام آباد میں ٹیکس نظام پر دو روزہ کانفرنس کے افتتاحی خطاب میں منصفانہ ٹیکس نظام کی ضرورت پر زور دیا۔
ازعور نے کہا کہ ایک منصفانہ ٹیکس نظام تعمیل کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے، بہتر سرکاری خدمات اعتماد مضبوط کر سکتی ہیں، اور ایک غیر جانبدار ٹیکس ڈھانچہ پیداواری کاروباروں کو چھوٹا یا غیر رسمی رہنے کے بجائے پھیلنے کا موقع دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکس نیٹ کی توسیع، ریونیو انتظامیہ کی مضبوطی اور ٹیکس چھوٹوں میں کمی پاکستان کی ترجیحات ہیں۔
اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟
اخبار کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام سے پہلے تنخواہ دار طبقہ سالانہ 391 ارب روپے ٹیکس دیتا تھا، جو جون 2026 تک بڑھ کر 629 ارب روپے ہو گیا۔ اس کے برعکس تاجروں کی اسکیم میں 15 اکتوبر تک دس لاکھ کے سالانہ ہدف کے مقابلے میں صرف 137 نئے ریٹیلرز شامل ہوئے۔
ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں رئیل اسٹیٹ سے انکم ٹیکس کی وصولی 38 فیصد کم ہو کر صرف 35.2 ارب روپے رہ گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے سے 22 ارب روپے کم ہے۔ اس کمی کی وجہ اس شعبے پر انکم ٹیکس میں 50 فیصد کٹوتی بتائی گئی ہے، جس کی آئی ایم ایف نے بھی توثیق کی تھی۔
زرعی آمدن پر ٹیکس کی تصویر بھی کچھ مختلف نہیں۔ رپورٹ کے مطابق سندھ نے گزشتہ مالی سال 2 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 1.1 ارب روپے، جبکہ پنجاب نے 10.5 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں صرف 4 ارب روپے جمع کیے۔
استحکام سے ترقی تک
ازعور نے کہا کہ جھٹکوں اور غیر یقینی کے باوجود پاکستان نے معاشی استحکام کی بحالی اور بیرونی ذخائر کی مضبوطی میں اہم پیش رفت کی ہے، اور اب اگلا مرحلہ اس استحکام کو پائیدار ترقی میں بدلنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ توانائی اور خوراک کی بلند قیمتیں، تجارتی رکاوٹیں اور عالمی مالیاتی سختی استحکام برقرار رکھنے کی اہمیت مزید بڑھا دیتی ہیں۔
یہ کانفرنس ایسے وقت ہو رہی ہے جب حکومت کی اعلیٰ سطح پر یہ بحث جاری ہے کہ کیا موجودہ ایف بی آر ہدف پورے کر سکتا ہے۔ اخبار کے مطابق وزیرِ اعظم نے ایف بی آر ختم کرنے کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے۔
