وار مانیٹر کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کے پہاڑی علاقے درازندہ میں بدھ کے روز نامعلوم مسلح افراد نے امن میلہ چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا، جس کے بعد علاقے میں شدید فائرنگ اور جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ لڑائی حملے کے فوراً بعد بھڑک اٹھی۔
نقصانات کی تفصیل تاحال سامنے نہیں آئی
رپورٹ کے مطابق حملے میں ملوث افراد کی شناخت، ممکنہ جانی نقصان اور جھڑپوں کی وسعت کے بارے میں ابھی کچھ واضح نہیں۔ کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری بھی قبول نہیں کی، اور وار مانیٹر کا کہنا ہے کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے اور واقعے کی آزادانہ تصدیق باقی ہے۔ سکیورٹی اداروں یا ضلعی انتظامیہ کا کوئی سرکاری مؤقف اس رپورٹ میں شامل نہیں۔
درازندہ، جو جنوبی وزیرستان کی سرحد سے متصل ہے، حالیہ مہینوں میں پولیس اور سکیورٹی چوکیوں پر حملوں کی وجہ سے بار بار خبروں میں رہا ہے۔
بنوں: ڈومیل کے جنگل میں کارروائی
اسی روز وار مانیٹر نے بنوں پولیس امن کمیٹی کے حوالے سے بتایا کہ کمیٹی نے صبح سویرے ڈومیل کے علاقے اکبر علی خان کلے کے جنگلات میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی۔ کمیٹی کے مطابق ٹھکانوں سے کچھ سامان برآمد ہوا اور کئی زیرِ زمین پناہ گاہوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد کارروائی سے پہلے ہی علاقہ چھوڑ چکے تھے۔ جاری معلومات میں کسی گرفتاری یا ہلاکت کا ذکر نہیں، اور برآمد شدہ سامان کی نوعیت یا مقدار بھی نہیں بتائی گئی۔ اس دعوے کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
