جیو نیوز کے مطابق ملتان میں یتیم نوجوان وسیم عباس کی موت کا مرکزی ملزم توقیر نذیر بدھ کی صبح بہاولپور کے قریب پولیس کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے ساتھ مبینہ مقابلے میں مارا گیا۔ وہ چند گھنٹے قبل ملتان کے تھانہ ڈی ایچ اے کی حراست سے فرار ہوا تھا، جہاں وہ چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر تھا۔
پولیس کا مؤقف
سی سی ڈی کے ڈسٹرکٹ آفیسر عرفان اکبر کے مطابق پولیس ٹیم نے بہاولپور کے ناردرن بائی پاس کے قریب موٹر سائیکل پر سوار دو افراد کو روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے فرار ہوتے ہوئے پولیس پر فائرنگ کر دی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں توقیر اپنے ہی ساتھی کی گولیوں کا نشانہ بنا، جبکہ ساتھی فرار ہو گیا۔
تاہم پولیس نے ابھی تک یہ وضاحت نہیں کی کہ ریمانڈ پر موجود ملزم حراست سے کیسے اور کب فرار ہوا اور بہاولپور تک کیسے پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق ایک روز قبل عدالت میں پیشی کے موقع پر وکلا نے بھی مبینہ طور پر ملزم پر تشدد کیا تھا۔
وسیم عباس کا المیہ
مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والا وسیم ایک این جی او کے یتیم خانے میں رہتا تھا اور موت سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے اسے بجلی کا کام سیکھنے کے لیے توقیر کے پاس بھیجا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق مبینہ بدسلوکی کے باعث وہ کام چھوڑنا چاہتا تھا، اور جب وہ بھاگا تو ملزم نے ملتان کی رائل آرچرڈ ہاؤسنگ سوسائٹی میں گاڑی سے اس کا پیچھا کر کے اسے کچل دیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں لڑکے کو بھاگتے اور گاڑی کی زد میں آتے دیکھا جا سکتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں وسیم کے چوری میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ملزمان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302 اور 34 کے تحت قتل کا مقدمہ درج ہے، جبکہ دوسرا ملزم امجد تاحال مفرور ہے۔ وسیم کو ان کے آبائی گاؤں دولت پور میں سپردِ خاک کیا گیا۔
