وار مانیٹر کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان سے گزرنے والی انڈس ہائی وے پر رات کے اندھیرے میں مسلح افراد نے دو الگ گاڑیوں کو روک کر کم از کم 25 افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ایک گاڑی میں چشمہ شوگر ملز کے ملازمین سوار تھے، جبکہ دوسری مسافر گاڑی تونسہ سے راولپنڈی جا رہی تھی۔
دو گاڑیاں، 25 مغوی
ابتدائی اطلاعات کے مطابق شوگر مل کی گاڑی سے 17 ملازمین اور مسافر گاڑی سے آٹھ افراد کو اغوا کیا گیا۔ یوں ایک ہی رات میں ایک ہی شاہراہ پر دو درجن سے زائد خاندانوں کے پیارے لاپتہ ہو گئے۔
رہائی کی ادھوری خبریں
محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے پولیس ذرائع نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 11 شہری رہا ہو کر گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔ بعد میں مزید 12 افراد کی رہائی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، تاہم ان کے گھر پہنچنے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
پولیس ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس کی اسپیشل برانچ کے اہلکار علمدار ترابی سمیت پانچ افراد اب بھی اغوا کاروں کی تحویل میں ہیں۔ وار مانیٹر نے خود نشاندہی کی ہے کہ رہائی اور تحویل کے یہ اعداد ابتدائی 25 کی تعداد سے میل نہیں کھاتے، اس لیے اصل میں کتنے افراد اب بھی یرغمال ہیں، یہ واضح نہیں۔ پولیس اور فوج نے باقی مغویوں کی بازیابی کے لیے مشترکہ کارروائی شروع کر دی ہے۔
اسی رات سولر پینلز کے دو ٹرک بھی لوٹ لیے گئے
وار مانیٹر ہی کی ایک اور رپورٹ کے مطابق اسی رات انڈس ہائی وے پر نئی ویلہ اڈہ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے سولر پینلز سے لدے دو ٹرک قبضے میں لے لیے۔ پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ تھانہ پروا کی حدود میں پیش آیا۔ ڈرائیوروں، لوٹے گئے سامان کی مالیت اور گاڑیوں کے بارے میں ابھی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔
پس منظر
ڈیرہ اسماعیل خان میں انڈس ہائی وے حالیہ دنوں میں مسافروں کے اغوا کی وارداتوں کی وجہ سے خبروں میں ہے؛ اسی ہفتے رمک کے علاقے میں بس مسافروں کے اغوا کی اطلاع بھی سامنے آئی تھی۔ ان تازہ واقعات کی سرکاری یا آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔
