پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا عمل مکمل کر لیا ہے، جبکہ معاہدے کا تیسرا فریق ترکی اپنے قانونی تقاضے پورے کر رہا ہے۔ یہ بات دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے جمعے کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے بعد صحافیوں کے سوالات کے جواب میں بتائی۔
تینوں ممالک نے اگست میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقۂ کار پر عمل کرتا ہے، اور ترکی نے اسی ہفتے یہ معاہدہ توثیق کے لیے اپنی پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے۔
سجاد حیدر خان نے کہا کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے اجتماعی دفاع، ڈیٹرنس اور علاقائی استحکام کے مشترکہ عزم کا عکاس ہے۔ ’یہ کسی خاص ملک کے خلاف نہیں، بلکہ کسی بھی فریق کے خلاف بیرونی مسلح جارحیت کی صورت میں اجتماعی مدد کا ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔‘ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے میں ’کوئی خفیہ شق نہیں‘ اور پاکستان ترک پارلیمنٹ سے جاری ہونے والے متن کی تائید کرتا ہے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت اہمیت اختیار کر گیا ہے جب سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے جاری ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اسی ہفتے کہہ چکے ہیں کہ پاکستان مملکت کے دفاع کے لیے ’جو بھی مدد درکار ہو‘ فراہم کر رہا ہے۔ حوثی حملوں کے جواب میں معاہدے کو باضابطہ طور پر بروئے کار لانے کے سوال پر ترجمان نے کہا کہ اس کا فیصلہ تینوں شراکت دار ممالک معاہدے کے مطابق کریں گے۔
ترجمان نے سعودی عرب پر حالیہ حملوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یمن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ تنازع کا پائیدار حل صرف مذاکرات سے ممکن ہے، تاہم سعودی عرب پر حملوں کی غیر مبہم مذمت کرتا ہے۔ اس سے پہلے دفتر خارجہ بتا چکا ہے کہ ریاض میں معاہدے کے تحت قائم کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد تینوں ممالک نے مملکت میں فوجی دستے اور صلاحیتیں تیزی سے تعینات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
