مواد پر جائیں

ڈی جی آئی ایس پی آر: مکہ اتحاد پر حملے کا اجتماعی جواب ہوگا

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے کسی بھی رکن ملک پر براہِ راست یا بالواسطہ حملے کا جواب تینوں ملک مل کر دیں گے، اور یمن کی جانب سے فوجی مدد کی کسی بھی درخواست کا جائزہ حکومت لے گی۔

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

راولپنڈی: جیو نیوز اور ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ (ایم جے ڈی اے) خالصتاً دفاعی ہے، لیکن اس کے کسی رکن پر حملہ ہوا تو جواب اجتماعی ہوگا۔

اہم نکات

  • ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بات 'انڈیپنڈنٹ عربیہ' کو انٹرویو میں کہی
  • سعودی عرب کی خودمختاری اور حرمین شریفین کی سلامتی کو 'ناقابلِ سمجھوتہ' قرار دیا
  • یمن کی حکومت کی کسی باضابطہ درخواست کا انہیں علم نہیں، درخواست آئی تو حکومت فیصلہ کرے گی

'اجتماعی ڈیٹرنس' کا پیغام

اتوار کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اجتماعی ڈیٹرنس خطے میں عدم استحکام پھیلانے والوں کو واضح پیغام دیتی ہے کہ تینوں میں سے کسی ملک کے خلاف براہِ راست یا بالواسطہ جنگ کا جواب مشترکہ ہوگا۔ ان کے مطابق اگر مذاکرات ناکام ہوئے اور بات فوجی تصادم تک پہنچی تو یہ اتحاد یقینی طور پر حرکت میں آئے گا۔

یہ معاہدہ 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاع سے متعلق سربراہی اجلاس کے دوران طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔

سعودی عرب اور حرمین کی سلامتی

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کی حفاظت پاکستان کے لیے اولین اور غیر مشروط ترجیح ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے جو مدد درکار ہے وہ فراہم کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی کی جائے گی۔

یمن کی درخواست کا سوال

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی جانب سے فوجی مدد کی درخواست کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کے علم میں کوئی باضابطہ درخواست نہیں آئی، اگر آئی تو اس کا جائزہ لینا اور جواب دینا حکومتِ پاکستان کا کام ہے۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب سعودی قیادت میں اتحاد اور حوثیوں کے درمیان لڑائی حالیہ ہفتوں میں شدت اختیار کر گئی ہے اور حوثی ریاض ایئرپورٹ، مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جنگ کا پھیلاؤ کسی کے مفاد میں نہیں، تنازعات مذاکرات سے حل ہونے چاہئیں اور یہ اتحاد کسی خاص ملک کے خلاف نہیں۔

مزید تفصیل جیو نیوز اور ایکسپریس ٹریبیون پر۔

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-19-dg-ispr-makkah-pact-collective-response-yemen?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

پاکستان کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں