بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں دو دن سے جاری کشیدگی کے بعد کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ اس نے 22 اکتوبر کو شروع کی گئی اپنی کارروائی، جسے وہ ’آپریشن الماس‘ کا نام دیتی ہے، ختم کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق تنظیم کے ترجمان میجر گوہرام بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کارروائی میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے کمپاؤنڈ اور خفیہ اداروں کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ان کے جنگجو تقریباً 20 گھنٹے تک وہاں قابض رہے۔ تنظیم نے درجنوں فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ بی ایل ایف نے اپنے سات ارکان کی ہلاکت تسلیم کی ہے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے جس کا نام بلقیس دیدگ عرف الماس بتایا گیا ہے۔
یہ دعوے فوج کے مؤقف سے یکسر مختلف ہیں۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے جمعے کو کہا تھا کہ گوادر شہر اور گبد سرحدی گزرگاہ کے قریب حملوں کے بعد کی گئی کارروائیوں میں ایک خاتون سمیت 10 دہشت گرد مارے گئے، ایک شہری جاں بحق ہوا اور کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا، تاہم یہ کارروائیاں سکیورٹی فورسز کے کسی جانی نقصان کے بغیر مکمل ہوئیں۔ آئی ایس پی آر نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ شدت پسندوں نے ایک بلوچ خاتون کو زبردستی حملے میں استعمال کیا۔
دونوں فریقوں کی جانب سے بتائی گئی ہلاکتوں کی تعداد، نقصان کی نوعیت اور کارروائی کے دورانیے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ گوادر میں جمعرات کو شروع ہونے والے واقعات اور فوج کے تفصیلی بیان کی خبر یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔
گوادر کے شہری، جو پاک ایران سرحد کی بندش اور حالیہ حملوں کے باعث پہلے ہی معمولاتِ زندگی کی مشکلات جھیل رہے ہیں، اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ کارروائی کے خاتمے کے اعلان کے بعد شہر میں حالات کب معمول پر آتے ہیں۔
