وار مانیٹر کے مطابق جمعرات کو بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ہیڈکوارٹر کو مبینہ خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ملوث ہونے کا الزام سامنے آیا، تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی اور جانی نقصان کی تفصیل بھی تاحال سامنے نہیں آئی۔
بی ایل ایف کا 'آپریشن الماس' کا دعویٰ
اسی روز وار مانیٹر (ایکس) نے رپورٹ کیا کہ کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے 'آپریشن الماس' کے نام سے گوادر میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس دعوے اور ایف سی ہیڈکوارٹر والے واقعے کے باہمی تعلق کے بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں ہیں، اور کسی سرکاری ادارے نے ان کی تصدیق نہیں کی۔
سرحدی گیٹ پر پھلوں کے ٹرک خاکستر
ضلع گوادر ہی کی تحصیل جیوانی کے قریب رمدان کے سرحدی علاقے سے وار مانیٹر نے مقامی اطلاعات کے حوالے سے بتایا کہ مسلح افراد نے پاک ایران سرحد پر واقع ٹریڈ گیٹ 250 پر دھاوا بول کر تازہ پھل لے جانے والے درجنوں ٹرکوں کو آگ لگا دی۔ علاقے کے ذرائع نے مسلح افراد اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی بھی اطلاع دی۔
مقامی تاجروں کا دعویٰ ہے کہ درجنوں نجی گاڑیاں تباہ ہوئیں اور نقصان کروڑوں روپے تک پہنچ سکتا ہے، لیکن ان اندازوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ حملہ آوروں کی شناخت اور کسی جانی نقصان کے بارے میں بھی کچھ واضح نہیں۔
سرحد کی بندش کا پس منظر
وار مانیٹر کے مطابق یہ واقعہ ان اطلاعات کے دوران پیش آیا کہ پاکستان نے یہ سرحدی گزرگاہ کئی دنوں سے بند رکھی ہوئی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ بندش کا اس حملے سے کوئی تعلق ہے۔ حکام نے نقصان کی تفصیل یا واقعے کا باضابطہ احوال تاحال جاری نہیں کیا۔
تازہ پیش رفت: بی ایل ایف کی ویڈیو
جمعرات کی شام وار مانیٹر نے بتایا کہ کالعدم بی ایل ایف نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ایف سی کی ایک تنصیب کے دروازے پر بارود سے بھری گاڑی کے خودکش دھماکے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ویڈیو میں دکھائی گئی جگہ، ہلاکتوں اور خود فوٹیج کے مستند ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی، اور یہ بھی واضح نہیں کہ اس کا تعلق گوادر میں رپورٹ ہونے والے حملے سے ہے یا نہیں۔
