مواد پر جائیں

افغان طالبان: بدامنی کا پاکستانی الزام مسترد

افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعے کو پاکستانی حکام کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا کہ افغانستان پاکستان میں بدامنی میں ملوث ہے، اور کہا کہ پاکستان کو اپنے ملک میں امن و امان پر توجہ دینی چاہیے۔

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

افغانستان کی طالبان حکومت نے ایک بار پھر پاکستان کے اس الزام کو سختی سے رد کر دیا ہے کہ پاکستان میں بڑھتی بدامنی کے پیچھے افغانستان کا ہاتھ ہے۔ امارتِ اسلامی کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعے کی شام سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی حکام کی جانب سے بار بار لگائے جانے والے یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستان کے فوجی حلقے اور دیگر سکیورٹی ادارے جب اپنے ملک میں امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو اپنے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے واقعات کی ذمہ داری افغانستان پر ڈال دیتے ہیں۔ ان کے بقول پاکستان میں بدامنی پیدا کرنا یا اس کی حمایت کرنا افغانستان کے مفاد میں نہیں، اور افغانستان کے پاس اتنے وسائل بھی نہیں کہ وہ دوسرے ملکوں میں بدامنی پھیلائے یا اس کی مالی معاونت کرے۔

انہوں نے زور دیا کہ کسی ہمسایہ ملک کی بدامنی براہِ راست افغانستان اور پورے خطے کے نقصان میں ہے اور پاکستان کا عدم استحکام معاشی، سماجی اور انسانی لحاظ سے افغانستان کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ افغانستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنی سکیورٹی ذمہ داریوں پر توجہ دیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ پاکستان اس کے بجائے افغانستان کو غیر محفوظ بنانے کے منصوبوں پر وسائل خرچ کر رہا ہے، جسے انہوں نے اپنی اصل ذمہ داریوں سے فرار اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کے مترادف قرار دیا۔

پاکستان کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔ اسلام آباد طویل عرصے سے یہ الزام عائد کرتا آیا ہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کر رہی ہے، جبکہ طالبان حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔ نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کو دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں کہا تھا کہ پاکستان کی افغان طالبان سے صرف ایک توقع ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ اس کی تفصیل یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کی خبریں مسلسل آ رہی ہیں، اور دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان الزامات کا یہ سلسلہ تعلقات میں تناؤ کو مزید گہرا کر رہا ہے۔

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-23-zabihullah-mujahid-rejects-pakistan-unrest-blame?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

پاکستان کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں