وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ پاکستان عارضی تیزی کے لیے کھپت پر مبنی ترقی کا راستہ نہیں اپنائے گا بلکہ برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو ترجیح دے گا۔ ہفتے کو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں امریکن بزنس فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’ہم بالکل واضح ہیں، دباؤ جتنا بھی ہو، ہم لیکویڈیٹی پر چلنے والی، کھپت پر مبنی ترقی کی طرف نہیں جائیں گے۔‘
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں درآمدات پر انحصار والی ترقی ہر بار ادائیگیوں کے توازن کے بحران پر ختم ہوئی اور ملک کو آخری سہارے کے قرض دہندگان کے پاس جانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیرف اصلاحات کا مقصد برآمد کنندگان کے لیے خام مال اور درمیانی اشیا سستی کرنا ہے، اور مقامی صنعت کو بہت عرصے تک بغیر کسی اختتامی مدت کے تحفظ دیا جاتا رہا۔ ’ہم ٹیرف اصلاحات کے دوسرے سال میں ہیں اور اسے جاری رکھیں گے، واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔‘
معیشت کے اعداد و شمار
اورنگزیب کے مطابق جڑواں خسارے مجموعی قومی پیداوار کے 12.5 فیصد سے کم ہو کر گزشتہ مالی سال کے اختتام تک 2.6 فیصد رہ گئے، مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آیا اور مسلسل تین سال پرائمری سرپلس رہا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی خدمات کی برآمدات ایک ارب ڈالر سے کم سے بڑھ کر 4.6 ارب ڈالر ہو گئی ہیں اور رواں مالی سال 5.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر تین ماہ سے زیادہ کی درآمدات کے برابر ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں گزشتہ سال کے 26.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر رواں مالی سال 21.5 ارب ڈالر رہ گئی ہیں، اور مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے باوجود نومبر تک توانائی کی فراہمی یقینی بنا لی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے 2.55 فیصد آبادی میں اضافے کی شرح کو بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے تقریباً چار ارب ڈالر کے زیر التوا منافع اور ڈیویڈنڈ کی واپسی بھی ضروری ہے۔
