الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی عمل کو مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال سے بچانے کے لیے سیاسی جماعتوں، امیدواروں، میڈیا اور انتخابی مبصرین کے ضابطۂ اخلاق میں ترامیم کا مسودہ جاری کر دیا ہے۔ جمعے کو جاری ہونے والے مسودہ نوٹیفکیشن پر کمیشن نے تمام فریقوں سے 20 نومبر تک آرا مانگی ہیں۔
کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 218(3) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دیانتدارانہ اور منصفانہ انتخابات یقینی بنانا اس کی ذمہ داری ہے، اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ گمراہ کن مواد کے ذریعے انتخابی عمل میں ہیرا پھیری بھی بدعنوان طریقوں میں شامل ہے۔
مجوزہ قواعد کے تحت جماعتوں اور امیدواروں کو اپنی انتخابی مہم میں استعمال ہونے والا ہر وہ مواد واضح طور پر ظاہر کرنا ہوگا جو مصنوعی ذہانت سے بنایا گیا ہو، جن میں ڈیپ فیک تصاویر، آڈیو، ویڈیو اور مصنوعی آوازیں شامل ہیں۔ کلون شدہ آواز والی روبوکالز کو آغاز ہی میں بتانا ہوگا کہ وہ مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہیں۔ ووٹروں کو دھوکا دینے والے مواد اور امیدواروں، جماعتی رہنماؤں، انتخابی عملے، عدلیہ یا مسلح افواج کے خلاف جھوٹے یا ہتک آمیز ڈیپ فیک بیانات پر پابندی ہوگی۔ جماعتیں لائکس، شیئرز یا فالوورز مصنوعی طور پر بڑھانے کے لیے بوٹس استعمال نہیں کر سکیں گی اور انہیں اے آئی کی مدد سے تیار کردہ مواد کا ریکارڈ رکھ کر طلب کیے جانے پر کمیشن کو دینا ہوگا۔
مسودے کے مطابق اخبارات، ٹی وی چینلز، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو اے آئی سے تبدیل شدہ انتخابی مواد پر واضح لیبل لگانا ہوگا۔ پیمرا، سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی آن لائن پلیٹ فارمز کی نگرانی کر کے کمیشن کو رپورٹ دیں گی، جبکہ کمیشن کو مواد فوری ہٹانے یا دوبارہ لیبل کرانے کا اختیار ہوگا۔ انتخابی مبصرین پر بھی لازم ہوگا کہ وہ ڈیپ فیکس کی نشاندہی کر کے براہ راست کمیشن کو اطلاع دیں اور خود اے آئی سے تصاویر یا رپورٹس نہ گھڑیں۔
