اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے جو کئی روز تک جاری رہے گا۔ یہ کارروائی جمعے کو ہیبرون کے فرش الہوا چیک پوائنٹ پر دو مسلح فلسطینیوں کی فائرنگ سے دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد شروع کی گئی، اور یہ ایسے وقت ہو رہی ہے جب اسرائیل میں منگل کو عام انتخابات ہونے والے ہیں۔
اسرائیلی فوج اور داخلی سلامتی کے ادارے شن بیت کے مشترکہ بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز ہیبرون کے اس علاقے میں تلاشی لے رہی ہیں اور فلسطینیوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہیں جہاں سے حملہ آور آئے تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ حملے کی جگہ پر ’غیر قانونی ڈھانچے‘ بھی منہدم کیے جا رہے ہیں اور درجنوں مقامات پر کارروائیاں جاری ہیں۔ دونوں حملہ آور موقع پر ہی اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے مارے گئے۔
وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے، جو انتخابات میں سخت مقابلے کا سامنا کر رہے ہیں، مغربی کنارے میں لاک ڈاؤن کا حکم دیا اور ہیبرون کے دورے میں کہا کہ وہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے ساتھ 1967 کی جنگ کے بعد سب سے وسیع فوجی آپریشن پر غور کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے میں فوج اس محلے میں داخل ہوگی جہاں سے حملہ آور آئے، رہائشیوں کو نکالا جائے گا اور گھر گھر تلاشی لی جائے گی۔
حماس نے حملے کی ذمہ داری قبول کیے بغیر اسے سراہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فلسطینیوں کے روزگار کو متاثر کرنے والی بندشوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ہر طرف سے تشدد روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم بتسلیم نے اجتماعی سزا کے منصوبوں کو روکنے کے لیے فوری بین الاقوامی دباؤ کی اپیل کی۔ فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کے ہاتھوں ایک ہزار 117 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
