مواد پر جائیں

اردن: چرچ پر مسلح حملہ، سات افراد ہلاک

جنوبی اردن کے صوبہ کرک کے گاؤں حمود میں جمعے کو مسلح افراد نے ایک چرچ میں جنازے کے دوران فائرنگ کر کے کم از کم سات افراد ہلاک اور 34 زخمی کر دیے۔

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

جنوبی اردن میں جمعے کو مسلح افراد نے ایک چرچ پر حملہ کر کے کم از کم سات افراد کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کر دیا۔ حکام کے مطابق حملہ آوروں نے صوبہ کرک کے گاؤں حمود میں یونانی آرتھوڈوکس چرچ کے احاطے میں گھس کر فائرنگ کی۔

پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے مطابق حملہ آور ایک گاڑی سے اترے اور جنازے کے جلوس کے دوران گولیاں چلانا شروع کر دیں، جس کے بعد ان کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی جاری ہے۔ ڈائریکٹر پبلک سکیورٹی میجر جنرل عبداللہ المعایطہ نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد چھ سے بڑھ کر سات ہو گئی ہے اور 34 افراد زخمی ہیں، جن میں سے 27 اب بھی زیرِ علاج ہیں۔

شاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ ’کرک پر ہونے والے اس دہشت گرد حملے کا انتہائی سخت جواب دیا جائے گا‘ اور ملک کو دھمکانے والوں پر ’آہنی ہاتھ‘ سے ضرب لگائی جائے گی۔ سرکاری ٹی وی کی تصاویر کے مطابق بادشاہ جمعے کی شام خود کرک پہنچے۔

ذرائع کے مطابق ایک عینی شاہد نے بتایا کہ حملہ آور تقریباً پانچ منٹ تک مسلسل فائرنگ کرتے رہے اور پھر فرار ہو گئے، جبکہ اس وقت چرچ کے اندر اور اردگرد ڈیڑھ سو سے دو سو افراد موجود تھے۔ مسلم اکثریتی اردن میں مسیحی برادری پر اس نوعیت کے حملے شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں۔

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-24-jordan-karak-church-shooting-seven-killed?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

دنیا کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں