مواد پر جائیں

ٹرمپ کی ایران پر نئے حملے کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو فلوریڈا میں ایک ریلی کے دوران ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی دھمکی دی، جبکہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے جنگ پر عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے۔

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک بار پھر فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ جمعے کو فلوریڈا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم شاید ایک اور چھوٹا سا ایپک فیوری کریں‘، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ایسی کارروائی کب ہو سکتی ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ذرائع کے مطابق امریکی فوج اور اسرائیلی فوج نے ایران پر مشترکہ حملوں کے نئے آپشنز تیار کیے ہیں، جن پر عمل غالباً وسط مدتی انتخابات کے بعد ہوگا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے البتہ کہا ہے کہ امریکہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ اب تک یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ نے کسی حملے کا حکم دیا ہے، اور مذاکرات کا راستہ بھی کھلا ہے۔

جنگ پر عوامی بے چینی

3 نومبر کے انتخابات قریب آتے ہی امریکی عوام میں جنگ پر ناراضی نمایاں ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر کے 28 ستمبر سے 4 اکتوبر کے درمیان 5,062 بالغ امریکیوں کے سروے میں 65 فیصد نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے متعلق ٹرمپ کی پالیسی کو ناپسند کیا جبکہ 33 فیصد نے اس کی حمایت کی۔ 73 فیصد نے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور 71 فیصد نے امریکی فوجیوں کے زخمی یا ہلاک ہونے پر شدید تشویش ظاہر کی، اور تقریباً نصف کا خیال ہے کہ یہ کارروائی ایک سال سے زیادہ جاری رہے گی۔

22 اکتوبر کو جاری ایک اور سروے کے مطابق تقریباً دس میں سے سات رجسٹرڈ ووٹرز چاہتے ہیں کہ نئی کانگریس ایران جنگ ختم کرنے کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔ کانگریس فوجی کارروائیوں کی نگرانی، سماعتوں اور بجٹ پر اختیار کے ذریعے جنگ کی سمت پر اثر ڈال سکتی ہے، جبکہ ارکان وار پاورز ریزولوشن کے تحت بھی صدر کے اقدامات کو چیلنج کر سکتے ہیں۔

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-24-trump-renews-iran-strike-threat-midterms?lang=ur