خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے علاقے کرپا میں ہفتے کو سکیورٹی فورسز کی جانب سے پانچ ڈرون حملے کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق ابتدا میں دو حملوں کی خبر آئی تھی، تاہم بعد کی اطلاعات میں یہ تعداد پانچ بتائی گئی۔ ان حملوں میں جانی یا مالی نقصان کے بارے میں اب تک کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں، اور نہ ہی حکام نے اس پر کوئی مؤقف دیا ہے۔
شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے قریب درپہ خیل گاؤں میں جمعے کی رات ایک نامعلوم کواڈ کاپٹر نے انجینئر مطیع اللہ خان کے گھر کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق حملے سے گھر اور وہاں کھڑی ایک گاڑی کو شدید نقصان پہنچا، تاہم گھر کے تمام افراد محفوظ رہے۔ مطیع اللہ خان نے ایک ویڈیو بیان میں نقصان کی تفصیل بتائی ہے، لیکن ڈرون چلانے والوں کی شناخت معلوم نہیں ہو سکی۔
اسی ضلع کی تحصیل میر علی کے علاقے سردی خیل سے جمعرات کی شام تین افراد کو مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا۔ مقامی ذرائع نے ان کے نام ظہیر اللہ ولد ملک گردی المسائی، عمر ولد عبدالغفار اور عدنان ولد خان علی خان بتائے ہیں۔ ان کی موجودہ جگہ اور حراست کے حالات واضح نہیں، اور اس بارے میں کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔
دعوے اور جوابی دعوے
ادھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں بنوں کے علاقے ڈومیل میں سی ٹی ڈی اور امن کمیٹی کے اہلکاروں اور گمبٹی کی فوجی چوکی پر کواڈ کاپٹر حملوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان حملوں میں ہونے والے نقصان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
سرحد پار افغانستان کے صوبہ پکتیا میں مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کرم سے ملحقہ دند پٹان کے قریب ایک پاکستانی ڈرون مار گرایا گیا۔ اس واقعے کے حالات واضح نہیں اور پاکستانی حکام نے اس دعوے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
بلوچستان کے ضلع چاغی میں چھتر کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے کی مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ ان تمام واقعات کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق ابھی باقی ہے۔
