چیٹ بوٹ کلاڈ بنانے والی امریکی کمپنی اینتھروپک نے پیر 26 اکتوبر کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اپنی متوقع لسٹنگ کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے "تباہ کن یا وجودی خطرات" پیدا کر سکتی ہے۔ کمپنی نیس ڈیک پر ANT کے نام سے لسٹ ہوگی اور یہ مکمل طور پر اے آئی پر مبنی پہلی کمپنی ہوگی جو عوام کے لیے حصص جاری کرے گی۔
لسٹنگ سے قبل جمع کرائی گئی دستاویز میں اینتھروپک نے کہا کہ جدید اے آئی نظام اگر مناسب حفاظتی انتظامات، نگرانی اور سکیورٹی کے بغیر تیار اور استعمال کیے گئے تو خاص طور پر غلط استعمال، نقل، ہتھیار بنائے جانے یا زیادہ خودمختاری سے کام کرنے کی صورت میں انسانیت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ تقریباً 90 صفحات پر مشتمل خطرات کے اس جائزے میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ فراہم کنندگان، تائیوانی چپ ساز کمپنیوں اور امریکہ میں مرکوز ڈیٹا سینٹرز پر انحصار کو بھی خطرہ قرار دیا گیا۔
اربوں کی آمدن، اس سے بڑا خسارہ
دستاویز کے مطابق کمپنی نے رواں سال کی پہلی ششماہی میں 16.3 ارب ڈالر آمدن حاصل کی جبکہ اس کا خسارہ 80.7 ارب ڈالر سے زیادہ رہا۔ حصص کی تعداد، قیمت کی حد اور لسٹنگ کی تاریخ ابھی ظاہر نہیں کی گئی، تاہم ذرائع کے مطابق کمپنی کی قدر اسپیس ایکس سے بھی بڑھ جانے کی توقع ہے، جس کی موسمِ گرما میں ریکارڈ لسٹنگ تقریباً 1.8 کھرب ڈالر کی ابتدائی قدر پر ہوئی تھی۔
اینتھروپک نے کہا کہ وہ ایسی سرمایہ کاری کرتی رہے گی جو "پہلی نظر میں غیر ذمہ دارانہ حد تک بڑی" لگ سکتی ہے، اور اس کا مقصد "جرات مند مگر معقول" رہنا ہے۔ کمپنی نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ اے آئی حیاتیات اور طب میں پیش رفت کو تیز کر کے کینسر اور الزائمر جیسی بیماریوں کے علاج میں مدد دے سکتی ہے۔
اینتھروپک کی بنیاد پانچ سال قبل ڈاریو امودے، ان کی بہن ڈینیئلا امودے اور پانچ دیگر افراد نے رکھی تھی۔ اس کی حریف کمپنی اوپن اے آئی کی لسٹنگ ذرائع کے مطابق اگلے سال کے آغاز میں متوقع ہے۔ اسی روز ایلوس پریسلی کے گانوں کے حقوق رکھنے والوں نے اینتھروپک پر مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ کمپنی نے سینکڑوں گانے کلاڈ کی تربیت کے لیے استعمال کیے۔
