مصر کی پارلیمان نے پیر 26 اکتوبر کو دو تہائی اکثریت سے فوج کو سعودی عرب کے دفاع میں مدد فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔ یہ فیصلہ قاہرہ کو براہِ راست اس علاقائی تنازع میں دھکیل سکتا ہے جو یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے خلیجی مملکت پر بڑھتے حملوں کے بعد مزید پھیل چکا ہے۔
پارلیمان کے بیان کے مطابق اس اختیار کے تحت صدر عبدالفتاح السیسی سعودی عرب کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے مملکت کی سرزمین، خودمختاری اور مقدس مقامات کے دفاع کے لیے اقدامات کر سکیں گے۔ یہ منظوری 18، 19 اور 26 اکتوبر کو صدر کی درخواست پر ہونے والے بند کمرہ اجلاسوں کے بعد دی گئی، تاہم بیان میں نہ اقدامات کی تفصیل دی گئی اور نہ ہی فوجی دستے بھیجنے کا واضح اعلان کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مدد سعودی عرب کی درخواست سے مشروط ہوگی۔
صدر سیسی پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ مصر کا کردار سعودی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع تک محدود رہے گا اور اس میں یمن پر حملہ شامل نہیں ہوگا۔ حوثیوں کی پیش قدمی آبنائے باب المندب کے لیے بھی خطرہ ہے، جو نہر سوئز کا دروازہ ہے اور مصر کی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔
مصر نے اب تک خلیجی ممالک پر ایرانی اور ایران نواز حملوں کی مذمت تو کی ہے، مگر نہ براہِ راست لڑائی میں حصہ لیا اور نہ ہی اگست میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت اختیار کی۔ مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے اسی ماہ کہا تھا کہ معاہدے میں شمولیت "سنجیدگی سے زیرِ غور" ہے۔
حالیہ ہفتوں میں حوثیوں نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو کو نشانہ بنایا ہے، جس سے پروازیں اور تیل کی برآمدات متاثر ہوئیں۔ امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ پہلے ہی بدترین انسانی بحران سے دوچار یمن کی صورتحال مزید بگڑ رہی ہے۔
