سربیا کے دیرینہ رہنما الیگزینڈر ووچچ نے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات میں طلبہ کی قیادت میں ابھرنے والی احتجاجی تحریک کے ہاتھوں اپنی جماعت کی شکست تسلیم کر لی ہے۔ نتائج سامنے آتے ہی دارالحکومت بلغراد، نووی ساد اور دیگر شہروں میں جشن شروع ہو گیا۔
سربیا کے الیکشن کمیشن کے ابتدائی نتائج کے مطابق 97 فیصد پولنگ اسٹیشنوں کی گنتی مکمل ہونے پر 'اسٹوڈنٹ لسٹ' نے 22 لاکھ 50 ہزار ووٹ یعنی 52.7 فیصد حاصل کیے، جبکہ ووچچ کی سربین پروگریسو پارٹی کو 16 لاکھ 70 ہزار ووٹ یعنی 39.2 فیصد ملے۔ ووچچ نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں کہا: "واضح ہے کہ ہم یہ انتخابات ہار گئے ہیں۔"
یہ تحریک دو سال سے بھی کم عرصہ پہلے نووی ساد ریلوے اسٹیشن کی چھت گرنے کے سانحے کے بعد ابھری تھی، جس میں 16 افراد ہلاک ہوئے اور جسے بدعنوانی اور غفلت کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ دو سالہ احتجاج کے بعد ووچچ نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا تھا۔ وہ دو مرتبہ صدر رہ چکے تھے اور تیسری مدت کے اہل نہ ہونے کے باعث وزیرِ اعظم کے عہدے پر واپسی کے لیے اپنی جماعت کی قیادت کر رہے تھے۔ ان کی جماعت 2012 سے اقتدار میں تھی۔
اسٹوڈنٹ لسٹ کے سرکردہ امیدوار ایلیا سردانووچ نے کہا کہ "یہ ایک آزاد ریاست ہوگی"، اور ان کی تحریک ملک کو "جبر سے آزاد" کرانا چاہتی ہے۔ سڑکوں پر رقص کرتے، نعرے لگاتے اور آتش بازی کرتے شہریوں میں سے ایک طالب علم کا کہنا تھا: "سربیا آزاد ہے، یہ ایک معجزہ ہے۔"
یورپی کمشنر برائے توسیع مارتا کوس نے کہا کہ سربیا کے لیے نیا باب شروع ہو سکتا ہے اور یورپی یونین کا دروازہ کھلا ہے۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے ووچچ کی روس سے تعلقات کے لیے خدمات کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ بلغراد کی نئی سیاسی قوت ماسکو سے تعاون کو سربیا کے مفاد میں سمجھے گی۔
