نوبیل امن انعام یافتہ وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو تقریباً ایک سال بیرونِ ملک گزارنے کے بعد وطن واپس پہنچ گئی ہیں۔ انہوں نے اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر لکھا: "میں یہاں ہوں، آپ سب کے ساتھ۔"
ان کی میڈیا ٹیم نے تصاویر جاری کیں جن میں وہ وسطی مغربی ریاست لارا میں سانتا روزا کے ایک چرچ میں دکھائی دیتی ہیں۔ ماچادو نے یہ نہیں بتایا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں یا ملک میں کیسے داخل ہوئیں۔ انہیں مادورو حکومت نے ملک چھوڑنے سے روک رکھا تھا، مگر وہ 2025 کے آخر میں خفیہ طور پر نوبیل انعام وصول کرنے کے لیے بیرونِ ملک چلی گئی تھیں۔
ان کی واپسی کا معاملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ ان کے تعلقات میں کشیدگی کی وجہ بنا رہا ہے۔ امریکہ نے جنوری میں صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا اور ٹرمپ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ اتوار کو وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ماچادو کی واپسی کا علم نہیں، اور ساتھ ہی کہا: "وہ بہت اچھی خاتون ہیں، لیکن ہم وینزویلا میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔" ٹرمپ ستمبر میں کہہ چکے ہیں کہ وینزویلا میں جمہوری انتخابات پر غور کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔
ماچادو کے خارجہ امور کے مشیر ڈیوڈ سمولانسکی کے مطابق وہ جون کے تباہ کن زلزلوں کے متاثرین، سیاسی قیدیوں کے اہلِ خانہ اور جمہوری تحریک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گی اور آزاد و منصفانہ انتخابات کی تاریخ کے لیے سرگرم کردار ادا کریں گی۔ جون کے ان دو زلزلوں میں کم از کم ساڑھے چھ ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ماچادو کی تحریک کے سابق صدارتی امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز نے بھی ان کی واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔
