برازیل کے بائیں بازو کے صدر لوئز اناسیو لولا ڈا سلوا نے اتوار کو ہونے والے صدارتی رن آف میں ڈرامائی واپسی کرتے ہوئے چوتھی مدت کے لیے کامیابی حاصل کر لی۔ سرکاری نتائج کے مطابق لولا کو 51.8 فیصد اور ان کے حریف فلاویو بولسونارو کو 48.2 فیصد ووٹ ملے، یوں لولا تقریباً 44 لاکھ ووٹوں کی برتری سے جیتے۔
یہ کامیابی اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ لولا پہلے مرحلے میں پیچھے رہ گئے تھے، اور 1989 کے بعد سے برازیل میں کوئی ایسا امیدوار دوسرے مرحلے میں نہیں جیتا تھا جو پہلا مرحلہ ہار چکا ہو۔ لولا منگل کو 81 برس کے ہو جائیں گے۔ ان کی جیت سے برازیل اس دائیں بازو کی لہر سے بچ گیا جس میں حالیہ برسوں میں ارجنٹائن، چلی، کولمبیا اور پیرو جیسے ممالک شامل ہو چکے ہیں۔
بولسونارو کا انتخاب کالعدم کرانے کا اعلان
ووٹنگ کا دن الجھن کا شکار رہا جب سپریم کورٹ نے لولا کی درخواست پر پولنگ کا وقت دو گھنٹے بڑھا دیا۔ لولا کا مؤقف تھا کہ کئی شہروں میں بسیں سڑکوں سے ہٹا لی گئیں جس سے شہری ووٹ ڈالنے نہ پہنچ سکے۔ فلاویو بولسونارو نے بھی بعض علاقوں میں شدید بارش کے باعث وقت بڑھانے کی درخواست کی تھی، مگر انہوں نے عدالتی فیصلے کو "ناقابلِ قبول" قرار دیا۔
برازیلیا میں مختصر خطاب میں انہوں نے کہا کہ "نتائج تسلیم کرنا ناممکن ہے، میں ان انتخابات کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کروں گا۔" فلاویو سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے ہیں، جو 2022 کا الیکشن لولا سے ہارنے کے بعد بغاوت کی کوشش کے جرم میں 27 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
جیت کے بعد لولا نے کہا کہ لوگ اس لیے ووٹ ڈالنے نکلے کیونکہ "ہم انہیں قائل کرنے میں کامیاب رہے کہ ملک میں جمہوریت کے لیے ووٹ بہت اہم ہے۔" ریو ڈی جنیرو میں آتش بازی ہوئی جبکہ ساؤ پاؤلو میں ورکرز پارٹی کے سرخ رنگ میں ملبوس ہزاروں حامی جشن منانے سڑکوں پر نکل آئے۔ رن آف سے پہلے کی صورتحال یہاں پڑھیں۔
